دارفور میں مظالم روکنے کے لیے عالمی مداخلت کی فوری ضرورت: بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم کی وارننگ
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
ٹو با ٹیک سنگھ، 9 نومبر 2025:
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم نے دارفور، سوڈان میں بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر ہم آہنگ مداخلت کا فوری مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ علاقے میں وسیع پیمانے پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور تمام خطرے کے عوامل نسل کشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
نارتھ دارفور کے شہر ال فاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد، اطلاعات ہیں کہ شہریوں پر منظم حملے، بڑے پیمانے پر قتل، غیر قانونی پھانسی، اور جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے علاقے میں مزید افراتفری پھیلی ہے۔
ہزاروں خاندان تویلا کے گرد انتہائی مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں انہیں خوراک، صاف پانی، پناہ گاہ، اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ تنظیم نے متاثرہ افراد تک ضروری امداد کی فوری اور بلا روک ٹوک رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔
تنظیم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے جرائم کے شواہد جمع کرنے کے عمل کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ نسل کشی کا حتمی تعین صرف مجاز قانونی ادارے کر سکتے ہیں، تاہم اس کے تمام خطرے کے عوامل موجود ہیں۔ تنظیم نے تمام فریقین سے تحقیقات میں مکمل تعاون کی بھی اپیل کی۔
تنظیم کی جانب سے رانا بشارت علی خان نے کہا:
> “ہم عالمی ضمیر کی ناکامی کے گواہ بن رہے ہیں۔ دنیا کو اب محض تشویش کا اظہار کرنے سے آگے بڑھ کر سیاسی اور سفارتی دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، اور بین الاقوامی عدالتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔”
Comments are closed.