پاکستان کی ثقافتی روح ایک بار پھر جگمگانے کو تیار ہے کیونکہ لوک میلہ 2025 کل (جمعہ) 7 نومبر شام چار بجے شروع ہو رہا ہے

26

اسلام آباد، 6 نومبر 2025ء: پاکستان کی ثقافتی روح ایک بار پھر جگمگانے کو تیار ہے کیونکہ لوک میلہ 2025 کل (جمعہ) 7 نومبر شام چار بجے شروع ہو رہا ہے، جو 16 نومبر 2025 تک جاری رہے گا۔ اس سال کا لوک میلہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوک ورثہ کے قیام کی 50ویں گولڈن جوبلی منائی جا رہی ہے، جو پاکستان کی ثقافتی تاریخ کا ایک قابل فخر سنگ میل ہے۔

یہ 10 روزہ ثقافتی میلہ، جو نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے تحت نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج (لوک ورثہ) کے زیر اہتمام منعقد کیا جا رہا ہے، پاکستان کی متنوع روایات، ہنر، موسیقی اور کھانوں کی دُنیا کا ایک دلکش سفر پیش کرے گا۔ ملک بھر سے فنکار، دستکار اور ثقافت کے دلدادہ افراد وفاقی دارالحکومت میں جمع ہوں گے تاکہ پاکستان کے رنگا رنگ ورثے کا جشن منایا جا سکے۔

اس سال کے لوک میلہ کا موضوع “یکجہتی کے رنگ، لوک ورثہ کے سنگ” ہے، جس کا مقصد قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ میلے میں پاکستان کے تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی نمائندگی کرنے والے خصوصی سٹالز اور پویلینز سجیں گے۔ اس کے علاوہ لوک موسیقی، روایتی رقص، دستکاری کی لائیو ڈیمونسٹریشنز اور روایتی کھانوں کے اسٹالز میلے کی زینت ہوں گے۔

روایتی دلکشیوں میں شامل لوک تھیٹر اور پتلی تماشا (پپٹ شو) کو نئے جوش و جذبے کے ساتھ بحال کیا گیا ہے، جبکہ صوفی اور لوک موسیقی کے معروف فنکار بھی اپنی پرفارمنسز پیش کریں گے۔

شرکاء کو روایتی بلوچی سجی، خیبر پختونخوا کی خصوصی چائے اور دیگر علاقائی کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ مٹی کے برتن، چمڑے کی کاریگری اور سنگ تراشی جیسے روایتی ہنر سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔ اس کے علاوہ میلے میں 12 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی پویلین بھی شامل ہو گا۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگزیب خان کھچی نے لوک ورثہ کو اس کے 50 سالہ سفر پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا، “لوک ورثہ نے پاکستان کی تہذیبی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لوک میلہ کی یہ گولڈن جوبلی نہ صرف ہمارے ثقافتی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کی علامت بھی ہے۔ ایسے ثقافتی پلیٹ فارمز امن، ہم آہنگی اور عوام میں باہمی تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ میں خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مشترکہ ورثے کی اس عظیم الشان تقریب میں بھرپور شرکت کریں اور قوم کے طور پر ہمارے بندھن کو مضبوط کریں۔”

Comments are closed.