بلوچستان کے بحری وسائل سے پائیدار استفادہ معاشی ترقی کی ضمانت ہے، نائب چیئرمین بی بی او آئی ٹی بلال خان کاکڑ

19

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

کراچی، 6 نومبر:
بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (BBOIT) کے نائب چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے بحری وسائل سے پائیدار اور مؤثر استفادہ ملکی معیشت کے استحکام، روزگار کے مواقع میں اضافے اور سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بلیو اکانومی (Blue Economy) کی سالانہ مالیت تقریباً ڈھائی کھرب امریکی ڈالر ہے، جس میں ماہی گیری، شپنگ، ساحلی سیاحت، میرین بائیو ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔

کراچی میں منعقدہ پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلال خان کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے لیے بلیو اکانومی کوئی تصوراتی خیال نہیں بلکہ ایک فوری قومی موقع ہے۔ پاکستان کا تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی علاقہ اسے علاقائی میری ٹائم اکانومی میں ایک کلیدی کردار کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم، اس ممکنہ ترقی کو حقیقت میں بدلنے کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی اور گہرے سمندری بندرگاہیں جغرافیہ اور مواقع کے سنگم پر واقع ہیں، جہاں ترقی اور رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ سمندری ماحولیاتی نظام کا تحفظ بھی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ماہی گیری، مینگرووز کی بحالی، اور آلودگی کے انسداد جیسے اقدامات قومی ایجنڈے کا حصہ بننے چاہئیں۔

بلال خان کاکڑ نے مزید کہا کہ شمولیتی ترقی کے بغیر بلیو اکانومی کا تصور ادھورا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ساحلی کمیونٹیوں اور ماہی گیروں کو تربیت، کاروباری مواقع، اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بلیو اکانومی کو صرف ایلیٹ پالیسی ایجنڈا نہ سمجھا جائے بلکہ اسے عوام دوست اقتصادی ماڈل میں تبدیل کیا جائے، جو مقامی لوگوں کی معاشی حالت بہتر بناتے ہوئے پائیدار ترقی کو فروغ دے۔

Comments are closed.