SMEDA بورڈ کا اجلاس، ایس ایم ایز کی باضابطہ رجسٹریشن مہم تیز کرنے پر زور
خصوصی رپورٹ
لاہور، 12 اکتوبر — اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے بورڈ کا 32 واں اجلاس اسپیشل اسسٹنٹ ٹو پرائم منسٹر برائے صنعت و پیداوار جناب ہارون اختر خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایم ای ڈی اے آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم، نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کے عمل اور ایس ایم ایز کی باضابطہ رجسٹریشن مہم کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار مسٹر سیف انجم، سی ای او ایس ایم ای ڈی اے مسٹر سقرات امان رانا، ایف بی آر کے چیف (لاء اینڈ کلیریفکیشن) مسٹر مسعود اختر، وزارتِ خزانہ کی جوائنٹ سیکرٹری (اخراجات) محترمہ عفت ملک، اور وزارتِ تجارت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل مسٹر محمد اشرف نے شرکت کی۔ نجی شعبے سے محترمہ عاصیہ ساحل خان، ڈاکٹر سید ظہور حسن، مسٹر مشہود خان اور مسٹر عثمان سیف اللہ خان بھی شریک ہوئے۔
اس موقع پر جناب ہارون اختر خان نے وزیرِاعظم کے ایس ایم ای سیکٹر کی تیز رفتار ترقی کے عزم کو دہراتے ہوئے ایس ایم ای ڈی اے کے کردار کو کلیدی قرار دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایس ایم ای ڈی اے ملک بھر میں آگاہی مہم شروع کرے تاکہ رجسٹرڈ ایس ایم ایز کے لیے حکومت کی مراعات سے متعلق معلومات عام ہوں، اور مزید کاروباروں کو ایس ایم ای رجسٹریشن پورٹل کے ذریعے رسمی شعبے میں لانے کے اقدامات تیز کیے جائیں۔
ایس اے پی ایم نے بتایا کہ ایس ایم ایز کے لیے طویل المدتی مالی معاونت کو آئندہ انڈسٹریل پالیسی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیرِ خزانہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
سی ای او ایس ایم ای ڈی اے مسٹر سقرات امان رانا نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ایس ایم ای ڈی اے آرڈیننس 2002ء میں 13 ترامیم تجویز کی گئی ہیں تاکہ بین الوزارتی رابطہ کاری کو بہتر بنایا جا سکے اور ایس ایم ای ترقیاتی مراعات کی منظوری کا عمل تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ایم ای ڈی اے نے باکو (آذربائیجان) میں منعقدہ او آئی سی ایس ایم ای نیٹ ورک (OIC-SMENET) کی تقریب میں فعال شرکت کی، جبکہ پاکستان نے پہلی بار روس میں منعقد ہونے والی معروف بائیوپرام 2025 تجارتی نمائش میں بھی حصہ لیا۔
آخر میں سی ای او نے ایس اے پی ایم اور سیکرٹری وزارتِ صنعت و پیداوار کا شکریہ ادا کیا جن کی رہنمائی اور تعاون سے ایس ایم ای ڈی اے پاکستان کے ایس ایم ای ایکو سسٹم کو مضبوط بنا رہا ہے اور مقامی کاروباروں کے لیے بین الاقوامی روابط کو فروغ دے رہا ہے۔
Comments are closed.