کل جماعتی حریت کانفرنس کا بھارت اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے کشمیر سے متعلق بیان پر شدید ردعمل

17

اسلام آباد، 12 اکتوبر —
کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر جناب غلام محمد صفی نے بھارت اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں جموں و کشمیر سے متعلق بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس میں بیان کردہ مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے، جو واضح طور پر کشمیر کے مسئلے کو ایک غیر طے شدہ تنازعہ قرار دیتی ہیں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے شماری کو اس کا واحد حل تسلیم کرتی ہیں۔

غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کو “اٹوٹ انگ” قرار دینا تاریخی حقائق، بین الاقوامی قوانین اور کشمیری عوام کی خواہشات کے خلاف ہے۔

انہوں نے افغان وزیرِ خارجہ کے بیان پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک برادر مسلم ملک کی جانب سے بھارت کے مؤقف کی تائید انتہائی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، جو خود بیرونی تسلط اور جنگوں کی تباہ کاریوں کا سامنا کرتا رہا ہے، اسے کشمیری عوام کے ساتھ انصاف، اصول اور اسلامی اخوت کی بنیاد پر یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔

غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیر کی تحریکِ آزادی کوئی انتہاپسندانہ یا سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ایک جائز، اصولی اور منصفانہ جدوجہد ہے جو حقِ خودارادیت کے لیے جاری ہے اور جسے اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے 1947ء سے ریاست جموں و کشمیر پر جبراً قبضہ کر رکھا ہے اور اپنی فوجی طاقت کے ذریعے لاکھوں کشمیریوں کو شہید، لاپتہ اور قید کیا گیا ہے۔ اب بھارت غیر ریاستی باشندوں کو کشمیر میں آباد کر کے ریاست کے مسلم تشخص اور آبادیاتی تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، جو چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کے غیر قانونی قبضے، انسانی حقوق کی پامالیوں اور آبادیاتی تبدیلیوں کا فوری نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

آخر میں غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی پرامن، جائز اور اصولی بنیادوں پر جاری ہے، اور یہ تحریک اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

Comments are closed.