پشاور ہائی کورٹ کا اسٹے آرڈر اور علی امین گنڈا پور کے دو استعفے، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے لیے نیا سیاسی بحران

19

رپورٹ: ایم الیاس ملاخیل | پشاور | 13 اکتوبر .

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے معاملے پر نئے آئینی اور سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے جاری کردہ اسٹے آرڈر اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے دو متضاد استعفوں نے پارٹی کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کو 15 اکتوبر کو گورنر ہاؤس طلب کر لیا ہے تاکہ استعفے کی تصدیق کی جا سکے۔ مختلف اوقات میں جمع کرائے گئے دو استعفوں نے گورنر کو آئینی اعتراضات اٹھانے کا موقع فراہم کیا، جس کے باعث وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پیر کے روز ہونے والے اسمبلی اجلاس میں سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ منتخب کرنے کی کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کے پاس ایک ہی راستہ باقی ہے کہ وہ علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرے اور اسی کے ذریعے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ منتخب کرائے، ورنہ پارٹی کو 15 اکتوبر تک انتظار کرنا پڑے گا۔

پی ٹی آئی کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن سہیل آفریدی کے انتخاب میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں، تاہم پارٹی کے بعض رہنماؤں کا اعتراف ہے کہ پی ٹی آئی کی اپنی قانونی اور انتظامی غلطیوں نے گورنر کو موقع دیا کہ وہ علی امین گنڈا پور کے استعفے کو آئینی طور پر متنازع قرار دیں۔

اب تمام نظریں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر پر مرکوز ہیں جو اپنے آئینی اختیارات کے تحت اس سیاسی بحران کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ اسپیکر گورنر کے مؤقف کے مقابلے میں اپنا آئینی اختیار استعمال کر کے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ادھر پشاور ہائی کورٹ نے اسٹے آرڈر جاری کرتے ہوئے اسپیکر کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی سے گریز کریں اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کو عدالتی فیصلے تک مؤخر رکھیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے چار امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں جن میں سہیل آفریدی (پی ٹی آئی)، مولانا لطف الرحمان (جے یو آئی ف)، ارباب زرک (پیپلز پارٹی)، اور سردار شاہجہان (ن لیگ) شامل ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، اپوزیشن جماعتیں مولانا لطف الرحمان کو مشترکہ امیدوار کے طور پر سامنے لا سکتی ہیں، جس سے سیاسی صورتحال میں نیا موڑ آنے کا امکان ہے۔

اب تمام نگاہیں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں جو یہ طے کرے گا کہ خیبر پختونخوا میں اقتدار کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جاتی ہے اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل کس سمت اختیار کرتا ہے

Comments are closed.