آئی ایس ایس آئی نے پاک–چائنا تعلقات پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد

19

ذیلی عنوان:
سیمینار میں سی پیک، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال

اسلام آباد، 7 اکتوبر:
انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں چائنا پاکستان سٹڈی سنٹر (CPSC) نے فوڈان یونیورسٹی کے پاکستان سٹڈی سینٹر کے تعاون سے “پاکستان–چائنا تعلقات: علاقائی استحکام اور اقتصادی خوشحالی” کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی، سفیر سہیل محمود نے کہا کہ پاک–چائنا تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ستون ہیں اور سی پیک نے ملک کے ترقیاتی منظرنامے کو تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے چین–پاکستان ایکشن پلان (2025–2029) کو ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، سبز ترقی اور صنعتی اپ گریڈنگ میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک قرار دیا۔

مہمان خصوصی، سفیر عمران احمد صدیقی نے شراکت داری کی پائیداری اور اس کی علاقائی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ نہ صرف روایتی منصوبوں بلکہ جدید شعبوں جیسے AI، بائیوٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور ڈیجیٹل جدت میں تعاون کو فروغ دے گا۔

سیمینار کے پہلے ورکنگ سیشن “علاقائی استحکام کے لیے سیکیورٹی تعاون” کے تحت سیکورٹی تعاون، میری ٹائم نیٹ ورکس، اور عوامی شراکت داری پر بحث ہوئی۔ دوسرے سیشن “علاقائی خوشحالی کے لیے اقتصادی تعاون” میں سی پیک کو افغانستان، وسطی ایشیا، ایران اور آذربائیجان تک وسعت دینے، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، گرین انفراسٹرکچر اور چھوٹے مقامی منصوبوں پر زور دیا گیا۔

ڈاکٹر طلعت شبیر نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور پاک–چائنا تعلقات کی ہر موسم کی مضبوطی پر زور دیا۔ اختتامی کلمات میں، سفیر خالد محمود، چیئرمین آئی ایس ایس آئی نے پاک–چائنا شراکت داری اور علاقائی تعاون کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

سیمینار میں دونوں ممالک کے نامور سفارت کار، سکالرز اور پریکٹیشنرز نے دو طرفہ تعلقات اور ان کے علاقائی مضمرات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔

Comments are closed.