“دکھ جو الفاظ سے ماورا ہے” فارح الرحمٰن — امید کا چراغ اور بیت الحمد کی بشارت

24

“دکھ جو الفاظ سے ماورا ہے”
فارح الرحمٰن — امید کا چراغ اور بیت الحمد کی بشارت
از قلم: مشتاق احمد بٹ

قدم اٹھے بھی نہ تھے کہ سفر تمام ہوا
غضب ہے راہ کا اتنا بھی مختصر ہونا

زندگی کے سفر میں کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو الفاظ کی گرفت سے باہر ہوتے ہیں۔ دکھ جب شدت اختیار کرے تو اظہار کی سکت بھی چھن جاتی ہے۔ ان دکھوں میں سب سے بڑا اور کڑا امتحان وہ ہے جب والدین کو اپنے جگر گوشے کے جنازے کو اپنے ہاتھوں سے سپردِ خاک کرنا پڑے۔ فطرت کا اصول ہے کہ اولاد والدین کو دفن کرتی ہے، مگر جب یہ ترتیب الٹ جائے تو دلوں پر ایسا زخم لگتا ہے جس کا مرہم کوئی نہیں۔

یہی امتحان ہمارے محترم بھائی، جنرل سیکرٹری کل جماعتی حریت کانفرنس ایڈووکیٹ پرویز احمد صاحب پر آیا، جب ان کے نوجوان بیٹے فارح الرحمٰن — جو خوابوں کی تعبیر، امید کا چراغ اور مستقبل کا سہارا تھا — حادثاتی طور پر دنیا سے رخصت ہو گیا۔

فارح الرحمٰن صرف ایک فرد کا نام نہیں تھا، بلکہ روشنی، علم، محبت اور خدمت کی علامت تھا۔ اسحاق خان یونیورسٹی کا ایک ہونہار طالب علم، اپنی انجینئرنگ کی تعلیم کے آخری مرحلے میں، خاموش مگر مخلص، نرم گفتار مگر عزمِ صادق رکھنے والا نوجوان۔ والدین کے خوابوں کی تعبیر، ان کی مسکراہٹ کا سبب — ایک لمحے میں وہ سب خواب مٹی تلے دفن ہو گئے۔

کہانی کا سب سے دردناک لمحہ وہ تھا جب والد جنیوا سے واپسی پر بیٹے سے ملے۔ بیٹے نے کہا: “بابا! میں یونیورسٹی واپس جانا چاہتا ہوں، یہ میرا آخری سمسٹر ہے۔” والد نے چاہا کہ روک لیں، مگر اجازت دے دی — اور یہی اجازت تقدیر کا فیصلہ بن گئی۔ سفر یونیورسٹی تک نہ پہنچ سکا، حادثے نے سب کچھ بدل دیا۔ دو ہفتوں کی جدوجہد کے بعد وہ چراغ بجھ گیا جو ایک خاندان کی روشنی تھا۔

إنا لله و إنا إلیہ راجعون

ایک پل میں ہنستا بستا گھر خاموش ہو گیا۔ وہ قہقہے، وہ باتیں، وہ خواب — سب وقت کی دھول میں گم ہو گئے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک نوجوان سارے شہر کو ویران کر گیا

یہ غم صرف ایک خاندان کا نہیں، بلکہ ایک معاشرتی نقصان بھی ہے۔ ایسے نیک اور ہونہار نوجوان جب اپنی منزل سے پہلے ہی رخصت ہو جاتے ہیں، تو یہ کمی پورے سماج کو محسوس ہوتی ہے۔

یہ صدمہ وہ ہے جس پر انبیاء علیہم السلام بھی آنسو بہائے بغیر نہ رہ سکے۔ نبی کریم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ کے انتقال پر آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ بھی روتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“میں اللہ کا نبی بھی ہوں اور ایک باپ بھی۔ دل غمگین ہے، آنکھیں اشکبار ہیں، مگر زبان وہی کہتی ہے جس سے اللہ راضی ہو۔”

یہ تعلیم بتاتی ہے کہ رونا انسانی فطرت ہے، مگر ایمان والوں کا شیوہ صبر اور تسلیم ہے۔

اسی صبر پر نبی اکرم ﷺ نے والدین کو بیت الحمد کی بشارت دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

> “جب کسی مومن کا بچہ وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے: کیا تم نے میرے بندے کے دل کا پھل قبض کر لیا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: جی ہاں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔”
(ترمذی: 1021)

یہ بشارت محترم ایڈووکیٹ پرویز احمد اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے اللہ کی طرف سے ڈھارس ہے۔ یقیناً فارح الرحمٰن کے صبر پر بیت الحمد جنت میں ان کا منتظر ہے۔

یقین ہے کہ فارح الرحمٰن اب جنت کے باغوں میں ہے، اپنے والدین کے لیے دعاگو ہے، اور ان کا صدقہ جاریہ بن چکا ہے۔

تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
وہ جو خوشبو میں ڈھل گیا لوگو
اس کو کس پھول کا ہم کفن دیں !!!

دعا

یا اللہ! فارح الرحمٰن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔
یا اللہ! اسے انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ جگہ عطا فرما۔
یا اللہ! والدین کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرما۔
یا اللہ! پرویز احمد صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے زخموں پر اپنی رحمت کا مرہم رکھ دے اور ان کے بیٹے کو ان کے لیے جنت میں صدقہ جاریہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔

دعاگو —
مشتاق احمد بٹ

Comments are closed.