پاکستان نے چین کو گدھوں کی کھالوں کی برآمد کی اجازت دے دی، گوادر میں جدید سلاٹر ہاؤس تیار

17

خصوصی رپورٹ
اسلام آباد، 5 اکتوبر : حکومتِ پاکستان نے چین کو گدھوں کی کھالوں کی برآمد پر عائد پابندی ختم کر دی ہے، جس کے بعد گوادر نارتھ فری زون میں پاکستان کا پہلا گدھا سلاٹر ہاؤس آپریشن کے آغاز کے لیے تیار ہے۔

چینی فارماسیوٹیکل کمپنی ہینگینگ ٹریڈنگ انٹرپرائز کی فائنل انسپکشن جلد متوقع ہے۔ 5 کروڑ ڈالر لاگت سے تعمیر کیا گیا یہ جدید سلاٹر ہاؤس چین کی معاونت سے مکمل ہو چکا ہے۔

چینی کسٹمز اتھارٹی نے کمپنی کے پروسیس اور معیار کی آن لائن جانچ پڑتال مکمل کر لی ہے۔

بلوچستان حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے تصدیق کی کہ وزارتِ تجارت نے ایک نئی ترمیم کے ذریعے برآمدی پالیسی میں تبدیلی کی ہے، جس کے تحت گدھوں کی کھالوں کی برآمد صرف گوادر فری زون نارتھ کے منظور شدہ اور رجسٹرڈ سلاٹر ہاؤسز کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔

پاکستان اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کمپنی کو سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ بحری امور کے ایک افسر کے مطابق پنجاب کے مختلف فارم ہاؤسز میں پلے گدھے گوادر کے جدید سلاٹر ہاؤس میں ذبح کیے جائیں گے، جہاں ان کا گوشت اور کھالیں عالمی معیار کے مطابق پروسیس ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید سلاٹر ٹیکنالوجی متعارف کرائے گا، جو بیماریوں سے پاک گوشت اور کھالوں کی برآمد میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2023-24 میں پاکستان میں گدھوں کی آبادی بڑھ کر 59 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

Comments are closed.