وزیر اعلیٰ بلوچستان: نوجوان ریاست کا قیمتی اثاثہ، اساتذہ روشنی کا مینار
خبر:
کوئٹہ، 3 اکتوبر 2025: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوان کسی بھی ریاست کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل کے معمار ہیں جبکہ اساتذہ ان کے لیے رہنمائی اور روشنی کا مینار ہیں۔ اگر اساتذہ طلبہ کو درست سمت دکھائیں تو ریاست اور نوجوانوں کے درمیان خلیج کم کی جا سکتی ہے۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو مختلف جامعات کے فیکلٹی ہیڈز اور ممبران سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں میڈیا کے کردار، حقائق کی تصدیق، سماجی اقدار اور باہمی معاشرتی ذمہ داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بگٹی نے کہا کہ ماضی میں موثر ایڈیٹوریل چیک کے باعث خبر کی تصدیق اور اجراء کا عمل مضبوط رہا، لیکن اخبارات کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے آنے سے یہ ایڈیٹوریل چیک کمزور ہوا۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں سچ اور جھوٹ کے درمیان باریک لکیر رہ گئی ہے جس کے اثرات معاشرتی رویوں پر پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سماجی اقدار کی مضبوطی اور بنیادی ڈھانچے کے بغیر تھری جی اور فور جی سروسز متعارف ہوئیں، جس سے جھوٹے پروپیگنڈے کو فروغ ملا اور نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ حق و سچ کے بجائے پاپولر بیانیہ عام ہوا۔
وزیر اعلیٰ نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ تحقیق اور وضاحت کے ذریعے طلبہ کو درست سمت دکھائیں اور نسل نو کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور شہری کے درمیان حقوق و ذمہ داریوں کا باہمی تعلق قائم ہے اور شکوے ریاست کے خلاف تشدد سے حل نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام میں صرف بلوچ نہیں بلکہ سندھی، پختون، پنجابی اور دیگر اقوام نے قربانیاں دی ہیں اور یہ ملک سب کا ہے۔ بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، 16 ہزار کنٹریکٹ اساتذہ بھرتی کرکے 3200 بند اسکول دوبارہ فعال کیے گئے، اور کئی علاقوں میں پہلی بار سرکاری سطح پر طبی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بگٹی نے کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ سردی میں ٹھٹرتے اور گرمی میں جھلستے عام بلوچستانی کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ معیاری تعلیم صرف عمارتوں اور بھرتیوں سے نہیں بلکہ دور جدید کی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے، اور دستیاب وسائل کا درست استعمال پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔
Comments are closed.