غزہ پاکستان کے ایجنڈے کا مرکزی نکتہ، وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی قیادت میں مسلمان ممالک متحد
ستمبر : نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں غزہ کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان کی قیادت میں مسلمان ممالک متحد ہو کر فوری جنگ بندی، قابض افواج کے انخلا اور انسانی امداد پر زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 21 نکاتی پاکستانی امن منصوبہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔ کچھ عناصر سیاسی مقاصد کے لیے منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں، مگر فلسطینی عوام نے اسے خوش آمدید کہا، جو اس منصوبے کی اصل اہمیت ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا نے غزہ میں امن قائم رکھنے کے لیے 20 ہزار اہلکار فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ پاکستان بھی جلد اپنا کردار متعین کرے گا۔ منصوبے کے تحت فلسطین میں ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے تاکہ وہاں استحکام اور تعمیر نو کو یقینی بنایا جا سکے۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم نشست بھی شامل تھی، غزہ کے مسئلے کو نمایاں کیا۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم ممالک نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی صورتحال نازک ہو چکی ہے، جہاں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے پانچ دنوں میں تقریباً 18 سائیڈ لائن ملاقاتوں میں حصہ لیا، جن میں برطانیہ، جرمنی، بیلجیئم، کینیڈا اور سری لنکا کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں اور او آئی سی، دولت مشترکہ اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اجلاسوں میں شمولیت شامل تھی، تاکہ عالمی مسائل پر پاکستان کی آواز بلند ہو۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا دیرینہ موقف ہمیشہ دو ریاستی حل رہا ہے، اور یہ منصوبہ، جسے آٹھ پرعزم مسلمان ممالک کی حمایت حاصل ہے، خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک حقیقی قدم ہے۔
Comments are closed.