استا محمد ضلع بننے کا اعزاز میر جان محمد خان جمالی کی سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے
(تحریر غازی خان تنیو )
استا محمد کی دھرتی ہمیشہ سے ہی اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، محنت کش عوام اور سیاسی شعور کے سبب پہچانی جاتی رہی ہے۔ برسوں سے یہاں کے عوام کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ استا محمد کو انتظامی طور پر ضلع کا درجہ دیا جائے تاکہ ترقی کے دروازے کھلیں، عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں اور نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات قریب تر مل سکیں۔ یہ خواب اب حقیقت میں ڈھل چکا ہے اور استا محمد ضلع کے طور پر تاریخ میں اپنا نام درج کر چکا ہے یہ کارنامہ کسی عام سیاسی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل جدوجہد، لگن اور عوامی خواہشات کی ترجمانی کا ثمر ہے۔ اس کامیابی کا سہرا بلا شبہ سابق وزیر اعلی بلوچستان میر جان محمد خان جمالی کے سر جاتا ہے جنہوں نے عوامی مطالبات کو ایوانِ اقتدار تک پہنچایا، مزاحمتوں اور رکاوٹوں کے باوجود استا محمد کے عوام کے حق میں آواز بلند کی اور اسے عملی جامہ پہنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ماضی میں استا محمد کے عوام کو ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے دوسرے اضلاع کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ سرکاری دفاتر، ترقیاتی اسکیمیں اور تعلیم و صحت کے منصوبے تاخیر کا شکار رہتےتھے ۔ لیکن اب ایک نئے ضلع کے قیام سے نہ صرف گورننس بہتر ہوگی بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں ترقیاتی بجٹ براہِ راست اس ضلع پر خرچ ہوگا اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ عوامی امنگوں کی جیت ہے۔ میر جان محمد خان جمالی نے اپنے سیاسی قد اور عملی جدوجہد سے یہ ثابت کیا کہ قیادت وہی ہے جو اپنے علاقے کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ استا محمد کو ضلع بنا کر انہوں نے نہ صرف اپنے شہر بلکہ بلوچستان کی سیاست میں بھی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے اب یہ ذمہ داری موجودہ منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے کہ اس کامیابی کو ترقی کی بنیاد بنائیں یہاں کی عوام، سرکاری ادارے اور نمائندے مل کر استا محمد کو حقیقی معنوں میں ایک ماڈل ضلع بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔ کیونکہ ضلع کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی سہولتیں گھر کی دہلیز پر ملیں گی
Comments are closed.