میر چاکرخان رند یونیورسٹی سبی کو پہلی بار ترقی کی جانب اسکی پیشرفت دیکھ کر خوشی ہوئی. اس یقین کے ساتھ کہ اگلے سینیٹ اجلاس میں اسکے معیار و مقدار دونوں کو آور زیادہ بہتر کیا جائیگا گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل

18

کوئٹہ 12 ستمبر: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میر چاکرخان رند سبی یونیورسٹی کو پہلی بار ترقی کی جانب اس کی پیشرفت دیکھ کر خوشی ہوئی. اس یقین کے ساتھ کہ اگلے سینیٹ اجلاس میں اسکے معیار اور مقدار دونوں کو آور زیادہ بہتر کیا جائیگا۔ ہم سبی یونیورسٹی میں پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی کمی کا مسئلہ فوری طور پر حل کرینگے. مذکورہ یونیورسٹی کو قومی سطح پر لانے کیلئے ہم پورے پاکستان سے بہترین پروفیسرز اینڈ ریسرچرز کو اس کی طرف متوجہ کرینگے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کے چوتھے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. اس دوران صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ عامر نواز رانا، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر، سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے بشیر کاکڑ، وائس چانسلر میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ، پرو-وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم ترین اور نمائندہ ہائیر ایجوکیشن انجینئر فاروق بازئی سمیت تمام سینیٹ ممبران موجود تھے. سینیٹ کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوالیفائیڈ فیکلٹی ممبرز کسی بھی یونیورسٹی کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتے ہیں۔ برین ڈرین تعلیمی ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتی ہے، تعلیمی پروگرامز میں خلل ڈالتی ہے اور تحقیقی پیشرفت کو کم کر دیتی ہے۔ معیار، جدت اور مسابقت کو برقرار رکھنے کیلئے یونیورسٹی کی سطح پر برین ڈرین سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اسطرح ہم پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں عمدگی کے تحفظ اور جدت کو فروغ دینے قابل بن جائیں گے. انہوں نے میر چاکر خان رند سبی یونیورسٹی سمیت تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی کارکردگی کو بہتر اور موثر بنانے کیلئے رجسٹرار، ٹرہژرار اور دیگر ایڈمنسٹریٹو آفیسرز کی پیشہ ورانہ ٹریننگ کو لازمی قرار دیا. پروفیشنل ٹریننگ ہی ان کے استعداد کار میں اضافہ کرنے، انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے، وسائل کا بہترین انتظام کرنے اور باخبر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ مزید برآں یہ مؤثر مواصلات اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے، ضابطوں اور قوانین کی تعمیل کو یقینی بناتا ہے۔ چوتھے سینیٹ کے شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے.

Comments are closed.