بلوچستان کی سٹرکوں پر ایک خاموش خطرہ

18

(خصوصی رپورٹ)
تحریر۔محمد نزیر نور

مسافر بسیں ۔۔۔۔جنہیں عام طور پر عوام کا محفوظ سہارا سمجھا جاتا ہے۔ اب خفیہ خانوں اور اسمگلنگ کی وجہ سے ایک بڑے خطرے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔ ان خفیہ خانوں میں چھپایا گیا سامان نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اضافی وزن اور ساختی کمزوریوں کے باعث حادثات کا سبب بھی بنتا ہے۔بلوچستان میں مسافر بسوں میں خفیہ خانوں اور اسمگلنگ کی موجودگی نہ صرف ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع اور مسافروں کے تحفظ کو بھی شدید خطرات لاحق کرتی ہے۔مسافر بسوں میں خفیہ خانوں اور اسمگلنگ کا خاتمہ کے حوالے سے گزشتہ ہفتے  پروانشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی بلوچستان کے زیراہتمام سکندر جمالی آیٹوریم میں ایک روزہ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں محکمہ ٹرانسپورٹ، کسٹمز، موٹروے پولیس، ایکسائز، ٹرانسپورٹرز اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئے۔گزشتہ ایک سال میں بلوچستان میں ایندھن کی اسمگلنگ سے متعلق متعدد واقعات پیش آئے جن میں گاڑیوں (ٹینکر/لوڈر/زمیاد وغیرہ) میں لے جایا گیا ایندھن آگ لگنے یا تصادم کی وجہ بنا۔ چند بڑے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک یا شدید زخمی ہوئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے راستوں سے سالانہ اس اسمگلنگ کا حجم بہت بڑا بتایا جاتا ہے (سرکاری رپورٹ میں سالانہ 2 ارب 80 کروڑ لیٹر اسمگلنگ کا تخمینہ اور تقریباً 227 ارب روپے کا نقصان درج کیا گیا) — اس تناظر نے اسمگلنگ کو نہ صرف معاشی بلکہ سکیورٹی اور عوامی حفاظت کا بڑا مسئلہ بنا دیا ہے۔سیمنیار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ کے مطابق یہ معاملہ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جس کے لیے سخت اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسافر بسوں میں بنائے گئے خفیہ خانے خطرناک حادثات کا باعث بنتے ہیں۔ یہ عمل ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی بھاری مالی و قانونی مشکلات سے دوچار کرتا ہے کیونکہ پکڑے جانے کی صورت میں گاڑیاں ضبط ہو جاتی ہیں، مالکان پر جرمانے عائد ہوتے ہیں اور انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ ان کے مطابق، خفیہ خانوں کی موجودگی مسافروں کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور عوامی تحفظ غیر یقینی ہو جاتا ہے۔محمد حیات کاکڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری، عوام کو محفوظ سفری سہولیات اور اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تمام مسافر بسوں کی

Comments are closed.