پشاور: آئس کے زہریلے نشے نے نوجوان لڑکیوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا، حکومتی اداروں کی خاموشی پر سوالات

18

پشاور (رپورٹ:ایم-الیاس ملاخیل سے) – پشاور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں نوجوان لڑکیوں کا آئس جیسے مہلک اور زہریلے نشے کی لپیٹ میں آنا صرف ایک المیہ نہیں بلکہ معاشرے اور حکومتی نظام پر ایک کڑی تنقید کے طور پر سامنے آیا ہے۔

سماجی و عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست اگر ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت پولیو کے خاتمے کی مہم کامیابی سے چلا سکتی ہے تو پھر آئس جیسے خطرناک نشے کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اپنانے میں ناکامی لمحۂ فکریہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس مہلک زہر نے تعلیمی اداروں، محلوں اور گھروں کو بری طرح متاثر کیا ہے، مگر متعلقہ اداروں کی مکمل خاموشی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پشاور میں کئی معصوم بچیاں اس نشے کی لت میں مبتلا ہوچکی ہیں، لیکن حکومتی ادارے اور حکمران طبقات اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے صرف اعلانات اور رسمی بیانات تک محدود ہیں۔ عوامی حلقوں نے پولیس، انتظامیہ اور اینٹی نارکوٹکس فورس کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ آئس مافیا کو کھلے عام دھندا کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فوری طور پر منشیات کے خلاف ایک جامع اور سخت حکمتِ عملی تیار نہیں کرتی تو یہ زہر نوجوان نسل کو زندہ لاشوں میں بدل دے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ جس طرح پولیو کے خلاف ریاستی سطح پر مؤثر مہم چلائی گئی، اسی عزم اور طاقت کے ساتھ آئس اور دیگر منشیات کے خلاف جہاد کرنا ہوگا، ورنہ آنے والی تاریخ حکمرانوں، اداروں اور معاشرتی رہنماؤں سب کو مجرم قرار دے گی۔

Comments are closed.