ڈی آئی جی محمد اعجاز خان کی غیر قانونی معطلی پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا
اسلام آباد (رپورٹ : ایم-الیاس ملاخیل) – خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک قابل، ایماندار اور وسیع تجربہ رکھنے والے پولیس افسر ڈی آئی جی محمد اعجاز خان پی ایس پی کی طویل اور غیر قانونی معطلی نے وفاقی حکومت کے طرزِ عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
محمد اعجاز خان، جو کہ 9 اپریل 2024 سے بطور آر پی او ہزارہ ڈویژن معطل ہیں، ان کا شمار خیبر پختونخواہ کے باصلاحیت اور اصول پسند افسران میں ہوتا ہے۔ حیران کن طور پر ان کی معطلی کے صرف چھ دن بعد یعنی 15 اپریل کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم کو ایک خط میں واضح طور پر آگاہ کیا تھا کہ ان کا نام کسی انکوائری رپورٹ میں شامل نہیں ہے اور ان کے خلاف کارروائی غیر منصفانہ ہے، اس لیے معطلی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔
باوجود اس وضاحت کے، ان کی معطلی آج تک برقرار ہے جس نے نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو مجروح کیا ہے بلکہ وفاقی حکومت کے غیر جانبدارانہ رویے پر بھی سنگین شکوک پیدا کر دیئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بشام سانحہ سے محمد اعجاز خان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ تمام نان سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اسپانسرنگ ڈپارٹمنٹس پر عائد ہوتی ہے، جنہیں منصوبے کی کل لاگت کا کم از کم ایک فیصد صرف سیکیورٹی کے لینے مختص کرنا لازمی ہے۔ اس رقم سے متعلقہ ادارے سیکیورٹی اسپیشل یونٹ (SSU) کے ساتھ معاہدہ کر کے خدمات حاصل کرتے ہیں۔ لیکن سانحہ بشام کے تناظر میں نہ تو یہ فنڈ مختص کیا گیا اور نہ ہی ایس ایس یو کے ساتھ معاہدہ کیا گیا۔
علاوہ ازیں، اس وقت کے آئی جی پی خیبر پختون خواہ اختر حیات گنڈاپور پر یہ الزام بھی سامنے آیا کہ انہوں نے اپنے قریبی رشتہ دار اپنے سالے آر پی او ملاکنڈ محمد علی گنڈاپور کو بچانے کے لیے محمد اعجاز خان کو غیر قانونی طور پر معطل کیا ۔ حالانکہ چینی شہریوں کے المناک موت حادثے کا واقعہ سوات ڈویڑن میں پیش آیا تھا دوسری جانب اسلام آباد میں چینی سفارتخانے نے بھی اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد تحقیقات کو سیاسی رنگ دینا تشویش ناک ہے۔
اس تمام صورتحال نے نہ صرف خطے پر ایک گہرا سایا ڈال دیا ہے بلکہ شفاف، منصفانہ اور ذمہ دارانہ تحقیقات کے مطالبے کو مزید زور بخشا ہے۔
خیبر پختونخوا کے عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے ڈی آئی جی محمد اعجاز خان کی غیر منصفانہ معطلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت ایسے غیر منصفانہ فیصلوں سے اجتناب کرے اور فوری طور پر اعجاز خان کو بحال کرے، تاکہ بڑھتے ہوئے تعصب اور قومیت پسندی سے پیدا ہونے والے منفی اثرات سے ملک و قوم کو محفوظ رکھا جا سکے۔
Comments are closed.