وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) بلوچستان کے دفتر میں ہیلتھ سیکٹر فلڈ پریپیئرڈنیس اینڈ ریسپانس کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا

14

کوئٹہ02 ستمبر :۔وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) بلوچستان کے دفتر میں ہیلتھ سیکٹر فلڈ پریپیئرڈنیس اینڈ ریسپانس کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین پروونشل کمیٹی برائے ہیلتھ سیکٹر فلڈ پریپیئرڈنیس اینڈ ریسپانس نے کی جبکہ عالمی ادارہ صحت (WHO) بلوچستان سب آفس نے اس کی کو-چیئرنگ کی۔جلاس میں ہیلتھ ڈپارٹمنٹ، ڈبلیو ایچ او، یونیسف، انڈس اسپتال، بی آر ایس پی، پی پی ایچ آئی بلوچستان اور ای پی آئی، ایم این سی ایچ، بی ایچ ایم آئی ایس، وی بی ڈی سمیت دیگر ورٹیکل پروگرامز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فلڈ سے متاثرہ اضلاع خصوصاً نصیرآباد ڈویڑن اور ڈیرہ بگٹی میں ہیلتھ سروسز کے تحفظ، افرادی قوت و ضروری ادویات کی فراہمی اور بہتر کوآرڈینیشن پر غور کیا گیا۔پچھلے اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت میں شامل تھے:پی ڈی ایس آر یو کی جانب سے ایچ آر اور لاجسٹک میپنگ۔* ایم این سی ایچ پروگرام کی طرف سے ایچ آر و لاجسٹکس کی نوٹیفکیشن اور ا±ستا محمد و صحبت پور میں اسٹاٹک مراکز کا قیام۔* ڈی ایچ او نصیرآباد کو ڈویڑنل کوآرڈینیٹر فلڈ ریسپانس مقرر کیا جانا۔* تمام پارٹنرز اور پروگرامز کی طرف سے 5W میٹرکس شیئر کیا جانا۔* وی بی ڈی ڈائریکٹر کی جانب سے آئی آر ایس اور ملیریا لاجسٹکس کے لیے تجویز سیکریٹری ہیلتھ کو ارسال۔* تمام موبائل ہیلتھ یونٹس کو فعال بنانا: 4 نصیرآباد ڈویڑن میں اور 4 ڈی جی ہیلتھ کے دفتر میں۔* پی ڈی ایس آر یو کی جانب سے ترجیحی امراض کی فائنلائزیشن اور ڈیٹا مینجمنٹ کو مضبوط کرنا۔* ادویات کی پہلی کھیپ کی ترسیل مکمل، جس میں 1000 وائل اینٹی اسنیک وینم (ASV) اور 100 وائل اینٹی ریبیز ویکسین (ARV) شامل۔* پی پی ایچ آئی کی جانب سے ہنگامی ادویات اور لیبر روم اسٹاک کو نصیرآباد ڈویڑن کی محفوظ سہولیات میں منتقل کرنا۔چیئرمین نے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی ہدایت کے مطابق پی ڈی ایم اے، ورٹیکل پروگرامز اور پارٹنر اداروں کے ساتھ قریبی روابط کو مزید مستحکم بنایا جائے تاکہ صحت کی سہولیات کے تحفظ، بلا تعطل ہیلتھ سروسز کی فراہمی اور ممکنہ وبائی امراض کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments are closed.