شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کی جانب حکومت خیبر پختونخوا کا اپنی نوعیت کی سٹیٹ آف دی آرٹ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ کا قیام ایک اہم اقدام ہے، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

21

شہریوں کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کی جانب حکومت خیبر پختونخوا کا اپنی نوعیت کی سٹیٹ آف دی آرٹ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ کا قیام ایک اہم اقدام ہے، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے عوام کو محفوظ، معیاری اور سائنسی بنیادوں پر جانچ کی گئی خوراک کی فراہمی کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے اور وزیر اعلیٰ علی آمین خان گنڈاپور کی خصوصی دلچسپی کی بنیاد پر صوبائی حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی صوبے کی پہلی جدید ترین “اسٹیٹ آف دی آرٹ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ” مستقبل میں خوراک کے تحفظ، پالیسی سازی، تحقیق اور بین الاداراتی اشتراک میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ان خیالات کا اظہار وزیر خوراک نے بدھ کے روز لیبارٹری میں منعقدہ میڈیا کے لیے اورینٹیشن و بریفنگ سیشن سے خطاب کر تے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید ، ڈائریکٹر ایڈمنسثریشن عبد الرحمن ، ڈائریکٹر آپریشنز اختر نواز ، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر عبد الستارشاہ اور دیگر افسران بھی موجود تھے اورینٹیشن سیشن کا مقصد میڈیا کو لیبارٹری کی اہمیت، سہولیات اور عوامی فوائد سے آگاہ کرنا تھا۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے میڈیا نمائندگان کو مختلف شعبہ جات اور جدید ٹیسٹنگ سسٹمز کا معائنہ بھی کروایا اور صحافیوں کو جدید آلات اور فراہم کی جانیوالی سہولیات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا سیشن کیدوران میڈیا کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کے زیر انتظام 905 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ یہ لیبارٹری بین الاقوامی معیار (ISO) کے معیارات کے مطابق تیار کی گئی ہے اور یہ خیبرپختونخوا میں فوڈ ٹیسٹنگ کے شعبے میں پہلی سٹیٹ آف دی آرٹ لیب ہے جو ایک ہی چھت تلے 8 مخصوص اور مکمل فعال لیبارٹریز پر مشتمل ہے آن لائن رپورٹنگ اور مرکزی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (MIS) اورعوام و خوراک سے وابستہ کاروباروں کے لیے آن لائن رسائی جیسے سہولیات سے بھی آراستہ ہے
بریفنگ میں بتایا کہ اس لیبارٹری میں 100 سے زائد اشیائے خورد و نوش کے 1500 سے زائد ٹیسٹ پیرامیٹرز کی جانچ کی جا سکتی ہے جسمیں مضر صحت ملاوٹ، مصنوعی رنگ اور زہریلے کیمیکلز کی شناخت،خوردبینی جراثیم جیسے سالمونیلا، ای کولائی، لسٹیریا اور پھپھوندی وغیرہ کی جانچ ،خوراک میں غذائیت، چکنائی، نمی، راکھ اور توانائی کی مقدار کا تجزیہ، دودھ اور گوشت میں اینٹی بایوٹک ریزیڈیوز کی موجودگی کی جانچ، گوشت کی نوعیت کی شناخت ،مثلاً خنزیر، گدھا یا کتا وغیرہ، حلال سرٹیفکیشن کے لئے ٹیسٹنگ کرنا،پانی و مشروبات میں ہیوی میٹلز مثلاً سیسہ اور آرسینک کی جانچ اور دیگر شامل ہیں میڈیا کو بتایا گیا کہ یہ لیبارٹری گیَس کرومیٹوگرافی (GC)،اٹامک ابزارپشن سپیکٹروسکوپی (AAS)،انڈکٹیوی کپلڈ پلازما آپٹیکل ایمیشن سپیکٹروسکوپی (ICP-OES)،ہائی اور الٹرا ہائی پرفارمنس لیکوئیڈ کرومیٹوگرافی (HPLC, UHPLC)
،فورئیر ٹرانسفرم انفراریڈ سپیکٹروسکوپی (FTIR) ،ملکو سکین اور خصوصی ڈیری و بیوریجز اینالائزرز اور اسطرح دیگر جدید مشینوں سے ٹیسٹنگ کی جائے گی
یہ لیبارٹری خیبرپختونخوا کے 20 سے زائد اضلاع میں فوڈ اتھارٹی کے فیلڈ دفاتر سے منسلک ہے، جو سیمپل کلیکشن پوائنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ صوبے بھر سے جمع کردہ نمونوں کا تجزیاتی ڈیٹا نہ صرف فوڈ اتھارٹی کے لیے مفید ہو گا بلکہ یہ پبلک ہیلتھ، زراعت، لائیوسٹاک، بلدیات، ماحولیات، اور ای پی اے جیسے محکموں کو سائنسی بنیاد فراہم کرے گا۔
وزیر خوراک نے کہا کہ یہ لیبارٹری بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر فوڈ فورٹیفکیشن، غذائیت کے پروگرامز اور تحقیق میں بھی فعال کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف قانون نافذ کرنا نہیں بلکہ خوراک کی بہتری کے لیے ایک سسٹم تیار کرنا ہے جو مستحکم، شفاف اور عوام دوست ہو۔
آخر میں انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا عوامی شعور اجاگر کرنے میں اہم شراکت دار ہے۔ محفوظ خوراک اور صحت مند عوام ہمارا مشن ہے، جس پر فوڈ اتھارٹی پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

Comments are closed.