چاند نگر کلچرل سینٹر کی نئی پیشکش “وسوسہ: ایک کہانی” 26 اور 27 جولائی کو شاہ عبداللطیف بھٹائی آڈیٹوریم اسلام آباد میں پیش کی گئی

27

یہ ڈرامہ امریکی مصنف جان پیٹرک شینلی نے 2004 میں تحریر کیا۔ 2008 کی مسٹری تھرلر فلم “ڈاؤبٹ” بھی اسی ڈرامے پر مبنی ہے جس میں ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ میریل اسٹریپ نے اداکاری کی۔

ڈرامے کی ہدایتکاری اور تخلیقی تشکیل عمران افتخار نے کی, ترجمہ عادل یوسف نے کیا اور یہ ایک ایسے سماجی ماحول کو اسٹیج پر لایا جہاں ادارے، روایات اور ذاتی نیتوں کے درمیان حدود دھندلا جاتی ہیں۔ وسوسہ محض ایک تھیٹر پروڈکشن نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ تھا، جس نے ناظرین کو اپنے ضمیر کے سامنے لا کھڑا کیا۔ مضبوط مکالمے، گہرے جذبات اور اداکاروں کی جاندار پرفارمنس نے اس کہانی کو ایک یادگار تجربہ بنایا۔

چند ماہ پہلے تھیٹر ڈائریکٹر عمران افتخار نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ “میں یہ خبر انتہائی فخر اور شکرگزار کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں کہ مجھے جان پیٹرک شانلی — پلٹزر انعام یافتہ ڈرامہ نگار اور اکیڈمی ایوارڈ یافتہ اسکرین رائٹر — سے ان کا شاہکار تھیٹر ڈرامہ Doubt: A Parable کو اسلام آباد کے سامعین کے لیے اردو میں ترجمہ کرنے، ڈھالنے اور اسٹیج پر پروڈیوس کرنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔”

وسوسہ ایک ایسی کہانی تھی جس نے یقین اور شک، طاقت اور کمزوری، اور سچ اور خاموشی کے درمیان جھولتی انسانی نفسیات کا گہرا مشاہدہ پیش کیا۔

اس تاریخی پروڈکشن کو چاند نگر کلچرل سنٹر کے ذریعے زندہ کیا گیا، یہ سینٹر اسلام آباد اور راولپنڈی میں تھیٹر اور آرٹس کے ذریعے جرات مندانہ، فکر انگیز، اور متعلقہ کہانیاں سنانے کے لیے وقف ہے۔

عمران افتخار نے مزید کہا کہ “بحیثیت ہدایت کار اور مترجم میرے لیے یہ صرف ایک سنگ میل نہیں بلکہ یہ پاکستانی تھیٹر کے لیے ایک تاریخی لمحہ تھا۔ میرے علم کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں ایک پلیٹزر انعام یافتہ ڈرامہ سرکاری طور پر پیش کیا گیا ہے۔”

اس عالمی سطح پر مشہور کام کو مقامی اسٹیج پر لانا ایک بہت بڑی ذمہ داری تھی — اور خطے میں تھیٹر ڈرامے پیش کرنے کے معیار کو بلند کرنے کا ایک سنہرا موقع تھا۔ ہدایت کار عمران افتخار نے کہا کہ “ہم امید کرتے ہیں کہ یہ پروڈکشن پاکستان میں بین الاقوامی تھیٹر کے لیے نئے دروازے کھولے گی اور اخلاقیات، تعلیم اور سچائی کے بارے میں تنقیدی گفتگو کو جنم دے گی۔”

عمران افتخار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈرامے کو پاکستان میں پروڈیوس کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس میں جو موضوعات دکھائے گئے ہیں وہ ہمارے معاشرے کے لیے بہت معنی رکھتے ہیں۔ اس ڈرامے کی سیٹنگ پنجاب کے ایک چھوٹے شہر کا سکول تھا۔ اس ڈرامے نے یقین اور وسوسے کے بیچ کی کشمکش کو اجاگر کیا۔ دیکھنے والے کو سوچنے پر مجبور کیا۔ اس ڈرامے میں سسپنس تھا اور بااثر کردار تھے۔

اس تھیٹر ڈرامے کے کرداروں میں اسامہ احمد، صبورہ مریم، مناحل طاہر اور رابعہ پاشا شامل تھے۔ ڈرامے کی دونوں شامیں ایک ایسی محفل تھیں جہاں آرٹ، سوال اور خاموشی آپس میں گتھم گتھا ہوئے۔ سامعین نے اس پیشکش کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ عالمی شہرت یافتہ ڈراموں کو پاکستان میں تھیٹر اور لٹریچر کے مداحوں کے لیے پیش کیے جاتے رہنا چاہیے ۔

Comments are closed.