گرین پاکستان پروجیکٹ, اوتھل میں قدرتی سرسبزہ کے خواب کی المناک حقیقت

38

اوتھل(رپورٹ-عزیز یوسفزئی) ماحولیاتی بہتری اور سرسبز پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے *”گرین پاکستان پروجیکٹ”* کا آغاز کیا گیا تھا، لیکن بدقسمتی سے اوتھل کے علاقے کھرڑی کے قریب یہ منصوبہ شدید غفلت اور کرپشن کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

محکمہ جنگلات کی جانب سے اس پروجیکٹ کے تحت 800 ایکڑ زمین پر لاکھوں روپے کی لاگت سے درخت اور پودے لگائے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف ماحول دوست اقدام تھا بلکہ بلوچستان کے بنجر علاقوں کو سرسبز بنانے کی ایک امید بھی۔ لیکن یہ تمام خواب افسران کی لاپروائی، سستی اور بے حسی کی نذر ہو گئے۔

تصاویر میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ درختوں کی خشک زمین، مرجھائے ہوئے پودے اور جانوروں کے چراگاہ بنے وہ علاقے جہاں سبزہ اگنا تھا۔ پودے نہ صرف پانی کی قلت کا شکار ہیں بلکہ اب حکومت کا قیمتی پیسہ اونٹ اور دیگر جانوروں کا چارہ بن چکے ہیں۔
محکمہ جنگلات نے پودوں کی دیکھ بھال، آبیاری اور تحفظ کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔ لگتا ہے کہ درختوں کو صرف بارش کے سہارے چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ مسلسل خشک سالی کے باعث یہ پودے زندگی کی رمق کھو چکے ہیں۔
ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکمہ جنگلات کے پاس نہ کوئی پلان تھا، نہ سنجیدگی۔ بس پودے لگاؤ، فوٹو کھنچواؤ،

محکمہ کے پاس تمام تر سہولیات موجود ہیں جس میں پانی کا واٹر ٹینکر موجود ہونے کے باوجود پانی کی فراہمی نہیں کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر ٹینکر کو آفس میں چھپا کر کھڑا کر دیا گیا ہے تاکہ فرضی رپورٹس کے ذریعے سب کچھ “ٹھیک” ظاہر کیا جا سکے۔ جہاں پودوں کو روزانہ پانی ملنا تھا وہاں غفلت کے باعث مہنوں تک پانی نہ مل سکا
بی آر سی اوتھل کے سامنے لگائے گئے پودے بھی خشک ہو چکے ہیں۔ سرسبز مناظر کی جگہ اب خاک و گرد کا راج ہے۔
یہ صرف ماحولیاتی نقصان نہیں، بلکہ عوام کے پیسے، حکومت کے اعتماد، اور “کلین اینڈ گرین پاکستان” کے وژن کی توہین ہے۔ لاکھوں روپے کے فنڈز ہوا میں اڑا دیے گئے ہیں، لیکن متعلقہ افسران مکمل خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہیں۔
محکمہ جنگلات کے افسران کی نااہلی، غیرذمہ داری اور سستی کی وجہ سے یہ منصوبہ صرف ایک تجربہ بن کر رہ گیا ہے، جس میں عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع ہوا اور ماحولیاتی بہتری کے دعوے جھوٹ ثابت ہوئے.

Comments are closed.