ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا

17

نصیرآباد 23جولائی ۔ ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ایف سی، پولیس سمیت دیگر ضلعی دفاتر کے سربراہان اور انٹیلیجنس اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے۔ اجلاس میں ضلع میں امن و امان کی صورتحال، ضلع نصیرآباد کے صحت سے متعلق مسائل، مدارس اور ان کے طلباءکی تعلیمی رجسٹریشن،مقامی پولیس پر عام لوگوں کے اعتماد کو مضبوط بنانے، پولیس اسٹیشن کی سطح پر پولیس کی طاقت میں اضافہ، مین بازار سٹی اور دیگر اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، حساس علاقوں میں نئی پولیس چیک پوسٹیں قائم کرنے مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر پیشگی اقدامات، بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشیٹو (BSDI)، انسداد تجاوزات مہم، کسی بھی دہشت گردانہ حملے کا جواب دینے کے ہنگامی منصوبے، متحد ردعمل اور مشترکہ مشق، دہشت گردی کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی، محفوظ بڑے شہروں کے قیام اور نگرانی کے لیے عمومی نوٹس،سمیت دیگر اہم امور زیر غور لائے گئے۔ اجلاس کے دوران تمام ضلعی افسران نے ترقیاتی امور، عوام کو درپیش مسائل اور مفاد عامہ کے لیے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ نے کہا کہ حکومت لوگوں کے مفاد میں بھرپور اقدامات کر رہی ہے مگر ضروری ہے کہ ان اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ لوگوں کے مسائل میں بتدریج کمی واقع ہو۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نصیرآباد میں فلڈ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، ممکنہ سیلابی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے افسران اپنے محکموں کی سرکاری مشینری کو عملے سمیت الرٹ رکھیں تاکہ مشکل حالات میں بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ترقیاتی اداروں کو ہدایت کی کہ تین دنوں کے اندر مفاد عامہ کی اجتماعی نوعیت کی اسکیمات متعارف کروائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کو مزید بہتر بنانے کے لیے موثر انداز میں اقدامات کیے جائیں عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مفاد عامہ میں بہتر اقدامات کو یقینی بنائیں تاکہ عوام پرسکون ماحول میں اپنی زندگی بسر کر سکیں جرائم پیشہ ور افراد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

Comments are closed.