متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر سینئر مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار، سید امین الحق و دیگر کی پریس کانفرنس
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد پر پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سینئر رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار، سید امین الحق و دیگر نے شرکت کی، فاروق ستار نے زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں عوام کی ابتر حالت زار ہے، ہم نہ بھی چاہیں تب بھی پیپلز پارٹی کے وڈیرے اور جاگیردار اپنے کرتوتوں سے تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، یہاں غیر جمہوری ، غیر منصفانہ طرز کی جمہوریت ہے، سندھ کے شہروں میں ایک غم و غصہ ہے لاوا پک رہا ہے کیونکہ 17 سالوں سے سندھ کے وسائل اور زمینوں کا اختیار پیپلزپارٹی کے جاگیرداروں کے ہاتھوں میں ہے، کراچی کو تباہ حال کر دیا گیا یے، وہ دن دور نہیں جب پیپلزپارٹی کو پتہ بھی نہیں چلے گا انکے پیروں کے نیچے سے زمین کب نکل جائے گی حکمران جماعت کے لہجے اور رویوں میں گھمنڈ کی انتہا ہے، سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم ایسی صورتحال میں سیاسی بردباری کا مظاہرہ کر رہی ہے، گزشتہ کئی سالوں سے سندھ کے تمام محکموں کی کارکردگی بد سے بدتر ہو چکی ہے، اس متعصب صوبائی حکومت کے عزائم اجرک والی نمبر پلیٹ کے حوالے سے کچھ مختلف ہیں یہاں لاکھوں موٹر سائیکلیں اور کاریں ہیں جنہیں ٹریفک پولیس کو لوٹنے کا کھلا اختیار دے دیا گیا ہے، گورنر سندھ نے واضح پیغام دیا ہے اجرک ثقافت ہے اس کی آڑ میں لوگوں کو لوٹا جائے گا تو کیا اسکی حرمت بحال رہے گی، اجرک کی آڑ میں ایک نیا لوٹ مار کا دھندا شروع کر دیا ہے۔سفید لباس میں ملبوس اندرون سندھ ہزاروں ٹریفک پولیس اہلکار لائے گئے ہیں اور انہیں لوگوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنے کے لیے فری ہینڈ دیا ہے، چالان کرنے پر انہیں الگ کمیشن ملتا ہے،صوبائی وزراء کے بچوں کی گاڑیاں فینسی ہیں،سوشل میڈیا نے دکھایا ہے اندرون سندھ میں پانچ فیصد گاڑیوں میں بھی نمبر پلیٹ نہیں ہوتی تاہم وہاں کوئی کاروائی نہیں ہوتی، سونے کا انڈا دینے والی مرغی کراچی ہے جسے ذبح کیا جاتا ہے، نمبر پلیٹس دینی ہے تو مفت دی جائے لوگ لگائیں گے، مخدوش عمارت لیاری میں گر گئی ان کا کوئی پرسان حال نہیں،مخدوش عمارتوں سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد نہیں ہوا گزشتہ کئی ادوار میں،17 سالوں سے انکی حکومت ہے.وزیر بلدیات پابند ہے ہر تین ماہ میں مخدوش عمارتوں پر میٹنگ کرے لیکن ان کے کان میں جوں نہیں رینگتی، ،عدالت عالیہ سندھ کو ماضی میں رہے وزراء اعلی اور وزراء بلدیات جن کے ادوار میں یہ غیر قانونی تعمیرات ہوئیں انہیں بھی ایف آئی آر میں نامزد کرنا چاہیے.ڈاکٹر فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ سہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چالیس ملازمیں کو ایس بی سی اے میں لایا گیا، یہ کراچی کے نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے،یہ ظلم اور نا انصافی کی ایک نئی شکل ہے۔کراچی حیدرآباد کا ڈومیسائل رکھنے والے شہریوں کو دیوار سے لگایا جا رہا یے۔ہم چھ افسران کو پکڑ کر بکرا بنانے اور نمبر پلیٹس کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ کماؤ پوت اس وقت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہے، انہوں نے کہا کہ خدا نہ کرے حیدر آباد کی طرح کراچی میں کلاؤڈبرسٹ ہوا تو کیا ہوگا؟ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، کلائمٹ چینج سے متاثرہ ساتواں ملک پاکستان ہے۔حیدر آباد شہر کو آفت زدہ ڈکلیئر کیا جائے،تین ہزار کا ملنے والا ٹینکر اٹھ آٹھ ہزار کا مل رہا ہے،سسٹم صرف ایس بی سی اے میں نہیں ہائیڈرنٹس سسٹم بھی ہے اس سلسلے میں جو کچھ ہو سکتا ہے ہم کرنے جا رہے ہیں، وزیر بلدیات اور میئر سے کہتا ہوں، یہ نہ کہو کہ سڑکیں تباہ ہیں،میئر کہتا ہے گلی اور محلوں کا میئر نہیں ہوں، میاں یہ پیپلز پارٹ کی زمہ داری ہے، پیپلزپارٹی کا گھمنڈ اگلے الیکشن میں ٹوٹے گا۔کراچی کی عوام نے دیکھ لیا ایم کیو ایم جب تھی تو سڑکیں بہتر تھی، کراچی میں پانی کی صورتحال بہتر تھی کراچی میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نہیں تھی ایم کیو ایم کے ادوار میں،گرین لائن پر وفاق کی توجہ ہے ہماری نگرانی میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا۔پانچ ارب روپے کا یہ منصوبہ مکمل ہوگا۔اورنگی ٹاؤن کی پچاس فیصد آبادی سائٹ ایریا کی فیکٹری جاتی ہے تم نے اورینج لائن اور شاہراہ بھٹو پر پیسے خرچ کئے۔ کریم آباد کے انڈر پاس پر ایسا لگتا ہے کسی نے جادو کر دیا، لوڈ شیڈنگ پر پیپلز پارٹی کی کوئی لب کشائی نہیں،دھابیجی پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے پانی بند ہو جاتا ہے۔جامعہ این ای ڈی کے امتحان میں اندرون سندھ کے بورڈ کے بچے 90 فیصد فیل ہوئے،کراچی کے 76 فیصد پاس ہوئے۔مجھے ترس آتا ہے ان سندھی بچے بچیوں کو بیساکھی کا محتاج کیا گیا ہے۔ کراچی کو سازش کے تحت کالونی بنا دیا گیا یے،جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمین بھی تمام صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ کے الیکٹرک کیخلاف ایم کیو ایم نے مظاہرہ کیا،کے الیکٹرک کیخلاف ایک بہت بڑا دھرنا ہمیں کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک کو درپیش بڑے مسائل کے حل کے لئے ایک قومی مکالمے اور نیشنل ایجنڈے کی ضرورت ہے، ایم کیو ایم اس مکالمے کے لئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس موقع پر مرکزی رہنما سید شکیل احمد، زاہد منصوری، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طحہ احمد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور ایم کیو ایم کے ذمہ داران موجود تھے۔
Comments are closed.