چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ کاریزات سمیت ضلع پشین کے تمام عوام کی شکر گزار ہے جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں پارٹی کے اُمیدواروں کے حق میں بھرپور ووٹ استعمال کیا

17

خانوزئی (پ ر) پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ کاریزات سمیت ضلع پشین کے تمام عوام کی شکر گزار ہے جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں پارٹی کے اُمیدواروں کے حق میں بھرپور ووٹ استعمال کیا، پشتونخوا وطن پر مسلط جعلی دہشتگردی، بدامنی اور لاقانونیت کی آڑ میں پشتون قوم کی نسل کشی جاری ہے جو قابل برداشت نہیں، خانوزئی، مسلم باغ، زیارت سمیت تمام پشتونخوا وطن میں ہر قسم کے معدنی وسائل پر قبضے کے خلاف تحریک چلاتے ہوئے اپنے عوام کی حق ملکیت کا دفاع کرینگے، وہ پارٹی کے بلوزئی علاقائی یونٹ کے علاقائی کانفرنس کے کھلے سیشن سے خطاب کررہے تھے جس سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، مرکزی سیکریٹری اللہ نورخان، صوبائی ڈپٹی سیکریٹریز محمود ریاض اور نظام خان نے بھی خطاب کیا جبکہ کانفرنس کے  کھلے سیشن میں پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کے علاوہ علاقے کے معززین ، معتبرین اور جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کیں۔ پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ جو پارٹیاں ارب پتی افراد کو پارلیمانی اداروں کے ٹکٹ دے کر اپنے محنتی اور وفادار کارکنوں کو نظرانداز کرتے ہیں وہ کسی بھی فورم پر عوام کی حقیقی نمائندگی کا حق ادا نہیں کرسکتے مخصوص پارٹیوں کی اس غلط پالیسی اور پارٹی کے حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے حقیقی جمہوری تحریک پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں کیونکہ اپنے حقیقی نظریات سے دستبرداری درحقیقت امرنواز قوتوں اور اُن کے کاسہ لیسوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخواوطن ہر قسم کے معدنی وسائل سے مالامال اور سالانہ کھربوں ڈالرکے پیداوار اور آمدن کے ذریعے ملکی خزانے کے بھرنے کا ذریعہ ہے جبکہ ان وسائل اور دریائے اباسین کے پانیوں کے مالک ہونے کے باوجود  ہمارے عوام دو وقت کی روٹی کے محتاج ہے اس سنگین صورتحال سے گلوخلاصی کیلئے سیاسی جمہوری جدوجہد مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ اقوام کی سیاسی جمہوری تحریک دونوں اقوام کے حقوق و اختیارات کا تعین اور احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے علاقے میں پشتون بلوچ عوام کے سرومال و عزت کے تحفظ کیلئے متحد ہوتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کی راہ ہموار کرنے کیلئے اقدامات ضروری ہے اور بلخصوص دونوں اقوام کے علاقوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بھائی چارے کو مزید آگے بڑھانا لازمی ہے اور پشتون بلوچ سیاسی قومی تحریکیں متحد ہوکر مشترکہ جدوجہد کو نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط غیر نمائندہ جعلی وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک کے کروڑوں عوام کی نمائندہ نہیں ان نام نہاد نمائندوں نے 26ویں آئینی ترمیم، پیکا ایکٹ، مائنز اینڈ منرل ایکٹ جیسے عوام دشمن قوانین مسلط کرکے

Comments are closed.