تحریک انصاف کے ناراض سینیٹ امیدواروں کا نامزدگی سے دستبردار ہونے کی آخری تاریخ ختم، خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن پیر کو ہوں گے
پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناراض سینیٹ امیدواروں کو نامزدگی کے کاغذات واپس لینے کی آخری مہلت ختم ہو گئی ہے، تاہم انہوں نے دستبرداری سے گریز کیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدواروں سے آج شام 6 بجے گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا حلف لیں گے، جبکہ صوبے میں سینیٹ انتخابات کل (پیر) صبح 11 بجے اسمبلی کے جرگہ ہال میں منعقد ہوں گے۔
ناراض امیدواروں کے دستبردار نہ ہونے پر تحریک انصاف نے اپوزیشن کے خلاف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پانے والا 6 اور 5 نشستوں کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔
پی ٹی آئی قیادت نے ناراض امیدواروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اتوار سے قبل اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں، لیکن ہدایت پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ناراض امیدواروں کو منانے کے لیے دو اجلاس منعقد کیے گئے، تاہم ان کے انکار کے بعد معاملہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ پہلے اجلاس میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور امیدواروں نے شرکت کی، جبکہ دوسرا اجلاس ویڈیو کال پر ہوا جس میں ناراض امیدوار شریک نہیں ہوئے۔ اس کے بعد یہ معاملہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے سپرد کیا گیا، جس نے پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کی توثیق کی۔
بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ ناراض امیدوار سیاسی کمیٹی کے فیصلوں کا احترام کریں گے، تاہم اگر وہ کاغذات واپس نہ لیں تو پارٹی نئی حکمت عملی اپنائے گی۔
سینیٹ کے امیدوار عرفان سلیم نے اس حوالے سے کہا کہ وہ سیاسی کمیٹی کے فیصلے پر کارکنوں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ عرفان سلیم، عائشہ بانو، وقاص اورکزئی، خرم ذیشان اور ارشاد حسین اتوار کی مقررہ مدت تک سینیٹ انتخابات سے دستبردار نہیں ہوئے۔
اس سیاسی تعطل اور اتوار کو پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی ممکنہ غیر حاضری کے باعث خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے 24 جولائی تک ملتوی کر دیا۔
Comments are closed.