آواران: تعلیم کا جنازہ اور کرپشن کا جشن!

19

تحریر: اے یار جینئداڑئ

بلوچستان کا ضلع آواران، جہاں تعلیم کے نام پر صرف خاک اور مٹی نظر آتی ہے۔ دہائیوں سے چلا آ رہا یہ زخم اب گہرا ہوتا جا رہا ہے، جس کی عمق میں دفن ہے آواران کے بچوں کا مستقبل۔ سال ہا سال سے کروڑوں روپے کے فنڈز تعلیمی اداروں کی مرمت اور تعمیر کے نام پر آتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسکولوں کی حالت اتنی زیادہ خراب ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ یہ صرف بے بسی اور شرمندگی کا اظہار نہیں، بلکہ یہ کرپشن کے ایک بڑے نیٹ ورک کا نتیجہ ہے جو آواران کی آنے والی نسلوں کو اندھیرے میں دھکیل رہا ہے۔

کرپشن کا یہ منظم نیٹ ورک آواران میں گھسا ہوا ہے، جس میں سرکاری افسران، سیاسی شخصیات، اور ان کے چہیتے ٹھیکیدار موجود ہیں۔ یہ لوگ ایک ہی اسکول کی مرمت کے لیے بارہا فنڈز جاری کراتے ہیں، بل بنائے جاتے ہیں، اور پھر ناقص سامان سے مرمت کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔ جعلی تصاویر اور رپورٹس بناتی ہیں اور فنڈز ہڑپ کر لیتی ہیں۔ اسکول وہیں کا وہیں، خستہ حال رہتا ہے، اور بچے غیرمعیاری ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جھاؤ ہائی اسکول کرپشن کے اس نیٹ ورک کی ایک عکاسی ہے۔ یہاں ایک مخلص استاد شبیر صاحب اپنی مدد آپ کے ذریعے، اسکول کی دیواریں مٹی سے پلستر کر رہے ہیں۔ یہ ان کی خدمت بلکل قابلِ تحسین ہے، لیکن یہ ہماری حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی بے حسی اور نااہلی کا اظہار بھی ہے۔ کروڑوں روپے کے فنڈز ہونے کے باوجود مٹی سے پلستر! یہ کیا مذاق ہے؟ کیا یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ مذاق ہے؟

یہ مسئلہ صرف جھاؤ ہائی اسکول تک محدود نہیں ہے۔ پورے آواران میں یہی الیمیہ دہرایا جا رہا ہے۔ اسکولوں میں بچے کھلے آسمان تحت بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ کہیں بیٹھنے کے لیے بینچ نہیں، کہیں چھت گرنے کو تیار ہے، اور کہیں بیت الخلاء تک موجود نہیں ہے۔ یہ صرف اسکولوں کی تباہی نہیں بلکہ تعلیم کا جنازہ ہے اور کرپشن کا جشن!

ہم حکومتِ بلوچستان، محکمہ تعلیم، اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ، اور محتسب اعلیٰ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسکولوں کا فوری آڈٹ کرایا جائے، متاثرہ اسکولوں کو فوری مدد دی جائے، اور کرپٹ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ یہ صرف اسکولوں کی دیواریں نہیں گر رہی ہیں، بلکہ ہمارے بچوں کے خواب بھی مٹی میں ملا دئیے جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے ابھی آواز نہ اٹھائی تو آنے والی نسلیں بھی اپنا مستقبل مٹی سے پلستر کرتی رہیں گی!

Comments are closed.