جب انسانی حقوق کا دفاع ایجنڈا بن جائے: بلوچستان پر مسخ شدہ بیانیہ
lایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ مہم، جس میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، بیبگر زہری، بیبو بلوچ اور دیگر کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، نے انسانی حقوق کے دعووں سے زیادہ یکطرفہ بیانیے، مشکوک مفروضوں اور جانبدار مواقف کے باعث شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ شخصیات معصوم کارکنان کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں، جبکہ ان کے دہشتگرد نیٹ ورکس، علیحدگی پسند ایجنڈے اور ریاستی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں سے تعلق کے واضح شواہد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان افراد کو اظہار رائے کی آزادی یا پرامن احتجاج کے باعث نہیں روکا گیا، بلکہ انہوں نے ایسے اقدامات کیے جو دہشتگردی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر، ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نے جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ میں ملوث دہشتگردوں کی لاشوں کو زبردستی تحویل میں لیا—یہ ایک دہشتگردانہ واقعہ تھا جس میں معصوم شہری جاں بحق ہوئے۔ ان مجرموں کی عوامی سطح پر مدح سرائی ریاستی قانون اور انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسی طرح بیبگر زہری کو ایمنسٹی ایک معصوم اور معذور کارکن کے طور پر پیش کرتا ہے، حالانکہ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) سے منسلک ہیں، جس پر انڈیا کی پشت پناہی سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
سب سے زیادہ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت کے بلوچستان میں تخریبی کردار پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ پاکستان کے عسکری ترجمان کی جانب سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے جیسے گروہوں کی حمایت میں ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے جا چکے ہیں، جو بلوچستان میں خونریزی، دہشتگرد حملے اور ترقیاتی منصوبوں کی تباہی میں ملوث ہیں۔ لیکن ایمنسٹی نے اس پر ایک سطر بھی جاری نہیں کی۔
ایمنسٹی کی انسانی حقوق کے معاملے میں بین الاقوامی سطح پر دوغلی پالیسی بھی واضح ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد کی بلاجواز قید، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، اور پرتشدد کارروائیاں روز کا معمول ہیں، لیکن ایمنسٹی نے خاموشی اختیار کی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 55,000 سے زائد بے گناہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، لیکن وہاں بھی عالمی مہمات ماند پڑی ہوئی ہیں۔
ایمنسٹی کے رپورٹنگ کے طریقہ کار میں بھی شدید عدم توازن پایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ترقی، تعلیم، انسداد دہشتگردی، اور نوجوانوں کے لیے اقدامات کو مکمل نظرانداز کر کے صرف چند غیر مصدقہ واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے—جو اکثر 0.005% سے بھی کم ہوتے ہیں۔ باقی 99.995% پر امن ترقیاتی سرگرمیوں کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنا انسانی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ بیانیہ سازی ہے۔
ای یو ڈس انفولیب جیسے اداروں نے بھارتی ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے، جہاں جعلی میڈیا، فرضی این جی اوز، اور جھوٹے رپورٹس کے ذریعے پاکستان کو بدنام کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز، ہیش ٹیگز اور جھوٹے الزامات عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں—ایمنسٹی نے اس پر بھی کبھی کوئی مؤقف اختیار نہیں کیا۔
جہاں پاکستان میں انسداد دہشتگردی کے قوانین جیسے اے ٹی اے یا ایم پی او کا استعمال ہوتا ہے، وہاں ان کا مقصد احتجاج روکنا نہیں بلکہ ان عناصر کو قابو میں لانا ہے جو ریاست، اداروں اور شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔ ان قوانین کو آمریت کی علامت قرار دینا سلامتی کے حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایمنسٹی نے بلوچستان میں دہشتگردی کے متاثرین کو یکسر نظرانداز کیا۔ جعفر ایکسپریس کے شہداء، اسکول اساتذہ، پولیو ورکرز اور عام شہری جو بی ایل اے و بی ایل ایف کے حملوں میں مارے گئے—ان کے لیے کبھی کوئی عالمی مذمت یا ہمدردی کے پیغام جاری نہیں کیے گئے۔
لہٰذا ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ مہم عالمی انسانی حقوق کے دفاع سے زیادہ ایک مخصوص جغرافیائی و سیاسی ایجنڈے کی خدمت کرتی نظر آتی ہے۔ یہ تنظیم اب ایسے افراد کی وکالت کر رہی ہے جن کے تعلقات اور عزائم مشکوک ہیں، جبکہ پاکستان میں جاری اصلاحات، ترقی، اور مفاہمت کی کوششوں کو مکمل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
پاکستان، ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے، اپنی علاقائی سالمیت، عوام کی حفاظت، اور بیرونی مداخلت کے خلاف دفاع کا حق رکھتا ہے۔ بلوچستان میں تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے، اور نوجوانوں کے مواقع پر کام جاری ہے—اور یہ راستہ کسی بیرونی بیانیے یا مداخلت سے نہیں رُکے گا۔
بلوچستان کے عوام ایسی بین الاقوامی یکجہتی کے حقدار ہیں جو سچائی، توازن اور زمینی حقائق پر مبنی ہو—نہ کہ ایسی “وکالت” جو سیاسی ایجنڈے کے پردے میں پاکستان کو بدنام کرے۔
کیونکہ جب وکالت ایجنڈا بن جائے، تو سب سے پہلے انصاف، سچ، اور انسانی عظمت کی اقدار پامال ہوتی ہیں۔



