پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کےجاری کردہ پریس ریلیز
کوئٹہ (پ ر)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کےجاری کردہ پریس ریلیز میں فارم 47 کی غیر نمائندہ صوبائی حکومت کی جانب سے اساتذہ، پروفیسرز، ادیبوں اور شاعروں کی تنخواہوں اور پنشنز کی بندش کو تعلیم دشمنی، علم دشمنی اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت، جو فارم 47 کی پیداوار اور ریاستی اداروں کے ایما پر قائم کی گئی ہے، نے 7 مئی 2025 اور 19 جون 2025 کو محکمہ تعلیم کے ذریعے جو غیر قانونی اور غیر آئینی نوٹیفکیشنز جاری کیے، ان کے ذریعے صوبے کے مختلف اضلاع میں کام کرنے والے پروفیسرز اور اساتذہ کی تنخواہیں اور پینشنز بند کر دی گئیں یہ فیصلہ نہ صرف تعلیم دشمنی ہے بلکہ ہمارے عوام کا معاشی قتل عام ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ افراد میں اکثریت ان اساتذہ، پروفیسرز، ادیبوں اور شاعروں کی ہے جن کا تعلق پشتون اور بلوچ عوام سے ہے اور جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، ادب، شعر و شاعری، تحقیق، اور تدریس کے فروغ کے لیے وقف کی ہے۔ ان کی تخلیقات میں عوام کی محکومی، محرومی، بدحالی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر صدائے احتجاج بلند کی گئی ہے، جو آج کی حکومت کو ناقابل برداشت بن چکی ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس امر کو انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت سمجھتی ہے کہ ریاستی ادارے اور حکومت اب اس حد تک عدم برداشت اور فکری انتقام کی روش اختیار کر چکے ہیں کہ انہیں پشتون اور بلوچ عوام کی فریاد نظم اور نثر کی صورت میں بھی سننا گوارا نہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کے باب دوم میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، جس میں اظہارِ رائے کی آزادی، انجمن سازی، سیاسی جماعت بنانے اور اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار جیسے حقوق شامل ہیں۔ موجودہ حکومت ان آئینی ضمانتوں کو نہ صرف نظر انداز کر رہی ہے بلکہ ان کے برخلاف عملی اقدامات کر رہی ہے۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ اور علمی شخصیات کے معاشی حقوق سلب کرنا محض تنخواہ یا پینشن روکنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل معاشی قتل کے مترادف ہے۔ اس ظلم کے خلاف نہ صرف ہم آواز بلند کریں گے بلکہ ہر فورم پر اس کے خلاف قانونی اور سیاسی مزاحمت کی جائے گی۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت فوراً ان غیر قانونی اور غیر آئینی نوٹیفکیشنز کو واپس لے۔تمام متاثرہ اساتذہ، پروفیسرز، ادیبوں اور شاعروں کو فوری طور پر ان کی تنخواہیں اور پینشنز ادا کی جائیں۔آئندہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو تعلیمی اداروں، علم پرور افراد اور فکری آزادی کے خلاف ہو۔ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ اقدامات واپس نہ لیے گئے تو پارٹی
Comments are closed.