معصوم بچیوں کو جرائم میں ملوث کرنے والی واردات ایک بار پھر بے نقاب
تفصیلات کے مطابق،ڈی آئی جی نصیرآباد رینج کیپٹن (ر) عاصم خان، ایس ایس پی نصیرآباد غلام سرور بھیو اور ایس ڈی پی او سرکل سٹی محمد طیب اقبال* کی ہدایات اور خصوصی توجہ کے تحت وومن پولیس اسٹیشن نصیرآباد کی فعال اور فرض شناس ایس ایچ او میڈم عائشہ بی بی نے پیشہ ور مجرموں کی جانب سے کمسن اور معصوم بچیوں کو چوری، فریب اور دھوکہ دہی کے غیر قانونی دھندے میں ملوث کرنے کی کوشش ایک بار پھر ناکام بناتے ہوئے تین کمسن بچیوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔مذکورہ بچیاں اس سے قبل بھی ایک واردات میں گرفتار کی جا چکی ہیں جب انہیں ایک گیس سلنڈر کی دکان سے تقریباً دو لاکھ روپے کی رقم چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ تاہم ان بچیوں کی خاموشی، نام و پتہ نہ بتانے اور کسی قانونی سرپرست کی عدم موجودگی کے باعث اُس وقت انہیں مزید قانونی کارروائی کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ یا متعلقہ اداروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایسے معاملات میں قانونی پیچیدگیاں درپیش آتی ہیں، جس کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر اٹھاتے ہیں۔ایس ایچ او وومن پولیس اسٹیشن کی جانب سے اس بار بھی بچیوں سے ان کے نام، ولدیت اور پتہ جاننے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، تاہم وہ مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے شبہ ہوتا ہے کہ ان بچیوں کو کسی منظم گروہ کی جانب سے ذہنی طور پر تیار کیا گیا ہے.ایس ایس پی نصیرآباد غلام سرور بھیو اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور واقعہ کی ہر زاویے سے مکمل تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ ان بچیوں کے پس منظر اور انہیں جرائم میں دھکیلنے والے عناصر تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ اگر کسی کو ان بچیوں کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوں یا ایسے عناصر کے متعلق علم ہو جو بچوں کو جرائم میں استعمال کرتے ہیں، تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا کنٹرول پر اطلاع دیں۔ اطلاع دینے والے کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔
*پی آر او ٹو ایس ایس پی نصیرآباد*
Comments are closed.