نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی باقاعدہ طور پر فعال ہو چکی ہے
نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی باقاعدہ طور پر فعال ہو چکی ہے
سائبر کرائم سے متعلق جرائم کی تفتیش اور قانونی کارروائی اب ایف آئی اے نہیں نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کے دائرہ اختیار میں ہے۔
ایف آئی اے میڈیا میں گردش کرنے والی خبر کی سختی سے تردید کرتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ “جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ایف آئی اے کو 27 پاکستانی یوٹیوب چینلز بند کرنے کا حکم دیا ہے
در حقیقت عدالت نے یہ احکامات نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی کی درخواست پر جاری کئے ہیں
عدالتی احکامات پر کسی بھی جگہ ایف آئی اے کا ذکر نہیں کیا گیا
یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے دو الگ اور خود مختار ادارے ہیں۔
سائبر کرائم کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کا اختیار ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں ہے۔
اس لیے عوام اور میڈیا نمائندگان کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں کو نشر کرنے سے گریز کریں
کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق متعلقہ سرکاری اداروں سے لازمی کریں۔
ترجمان ایف آئی اے
Comments are closed.