اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کی سرعام خلاف ورزی،
رپورٹ منور علی خاصخیلی
میر پور خاص شھر میں وافر مقدار میں شراب کی فروخت عام،
انتظامیہ مکمل طور پر خاموش،
قانون کے مطابق شراب صرف 18 سال سے زیادہ عمر کے غیر مسلم کو ہی فروخت کرنی ہے،
اور میر پور خاص شہر میں غیر مسلم آبادی بہت کم ہونے کے باوجود ہر ھفتے درجنوں ٹرک شراب کے لائے جاتے ہیں.
جو زیادہ تر مسلمانوں اور بچوں کو فروخت کی جارہی ہے،
میر پور خاص شہر میں نئی نسل کو تباہ کرنے کے لیے دیگر منشیات کے ساتھ ساتھ شراب کی دستیابی ایک عذاب بن چکی ہے، اور 12 سال کے بچوں کو بھی بآسانی شراب سمیت منشیات کا ملنا قانون کے پاسدار اداروں پر ایک سوالیہ نشان ہے..
.
ذرائع کے مطابق شراب خانوں کی کمائی میں بڑی بڑی سیاسی شخصیات کا حصہ ہے،
اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر غیر مسلمانوں کے نام پر شراب خانوں کے لائسینس رجسٹرڈ کروائے گئے ہیں،
اور اصل مالکان پردے کے پیچھے سے اپنا حصہ لے رہے ہیں،
ہم ڈی آئی جی میر پور خاص اور ایس ایس پی میرپورخاص سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دیگر منشیات فروشوں سمیت شراب خانوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے..
اور انکو پابند کیا جائے کے این آئی سی چیک کر کے غیر مسلم کو ہی شراب فروخت کریں،
Comments are closed.