میری فکری تربیت علامہ محمد اقبال کے نظریات اور تعلیمات سے جڑی ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا آئیسیسکو کی جانب سے اسلامی دنیا کی جامعات کے 6 ویں وائس چانسلرز فورم کے موقع پر “لائف ٹائم اچیومنٹ میڈل آف آنر” سے نوازے جانے کے موقع پر خطاب

19

میری فکری تربیت علامہ محمد اقبال کے نظریات اور تعلیمات سے جڑی ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا آئیسیسکو کی جانب سے اسلامی دنیا کی جامعات کے 6 ویں وائس چانسلرز فورم کے موقع پر “لائف ٹائم اچیومنٹ میڈل آف آنر” سے نوازے جانے کے موقع پر خطاب

رباط۔23جون (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ میری فکری تربیت علامہ محمد اقبال کے نظریات اور تعلیمات سے جڑی ہے، ان کا پیغام خودی، اجتہاد اور علم و وقار پر مبنی مستقبل کی تعمیر کا ہے، ان کی شاعری صرف ماضی کا ترانہ نہیں بلکہ آج کے نوجوانوں کے لیے ایک عملی خاکہ ہے۔یہ ایوارڈ صرف میری ذات کا نہیں، بلکہ پاکستان کے نوجوانوں، اساتذہ، محققین اور ان تمام افراد کا ہے جو علم اور ترقی پر یقین رکھتے ہیں، یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر قیادت وژن، محنت اور اخلاص سے کام کرے تو قومیں دنیا میں عزت، ترقی اور وقار حاصل کر سکتی ہیں ،یہ عالمی اعزاز وزیراعظم کی علم پر مبنی پالیسیوں اور مسلسل سرپرستی کے بغیر ممکن نہ تھا، یہ پاکستان کے روشن مستقبل کی جانب ایک اور قدم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (آئیسیسکو) کی جانب سے اسلامی دنیا کی جامعات کے 6 ویں وائس چانسلرز فورم کے موقع پر “لائف ٹائم اچیومنٹ میڈل آف آنر” نوازنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب آئیسیسکو کے ہیڈکوارٹرز رباط، مراکش میں منعقد ہوئی۔یہ اعزاز پروفیسر احسن اقبال کی پاکستان کو علم پر مبنی معیشت کی طرف گامزن کرنے، اعلیٰ تعلیم، سائنس اور جدت طرازی کے شعبوں میں نمایاں خدمات اور اسلامی دنیا میں فکری قیادت پر دیا گیا۔ وہ ایک ایسے رہنماء کے طور پر ابھرے ہیں جنہوں نے تہذیبی تعمیرِ نو، اخلاقی تحقیق، تعاون اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کا وژن پیش کیا۔وزارتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ میری فکری تربیت علامہ محمد اقبال کے نظریات اور تعلیمات سے جڑی ہے۔ ان کا پیغام خودی، اجتہاد اور علم و وقار پر مبنی مستقبل کی تعمیر کا ہے۔ ان کی شاعری صرف ماضی کا ترانہ نہیں بلکہ آج کے نوجوانوں کے لیے ایک عملی خاکہ ہے۔انہوں نے علامہ اقبال کے اشعار کے ذریعے اسلامی دنیا کو خودی، تحقیق اور تجسس کی روح دوبارہ زندہ کرنے کی دعوت دی:
“آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے
کھویا گیا کس طرح ترا جوہر ادراک!
کس طرح ہوا کند ترا نشتر تحقیق
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک”
پروفیسر احسن اقبال کی قیادت میں پاکستان کی اعلیٰ تعلیم میں انقلابی پیش رفت پر انہوں نے کہا کہ پبلک یونیورسٹیز کی تعداد 2013 میں 99 سے بڑھا کر 2025 تک 154 کر دی گئی ،اعلیٰ تعلیم میں داخلے 11 لاکھ سے بڑھ کر 16.5 لاکھ طلبہ تک پہنچے،فیکلٹی ممبران کی تعداد 27,633 سے بڑھا کر 38,000 سے زائد ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ خصوصی توجہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر جیسے پسماندہ علاقوں پر دی گئی، جہاں تعلیمی رسائی، صنفی مساوات اور اقلیتوں کی شمولیت کے اقدامات کیے گئے۔سائنس و ٹیکنالوجی میں بیرون ملک پی ایچ ڈی اسکالرشپس کے حوالے سے پاکستان-یو ایس نالج کوریڈور کا قیام،مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، جینومکس، بگ ڈیٹا اور سپیس سائنسز میں قومی مراکز کا قیام ،کوانٹم ویلی پاکستان کا آغاز جو سلیکان ویلی سے متاثر ایک ڈیپ ٹیک ایکو سسٹم ہے۔وینچر کیپیٹل فنڈ کا قیام تاکہ تحقیق کو کاروبار میں بدلا جا سکے۔پروفیسر احسن اقبال کی سات ستونوں پر مبنی اعلیٰ تعلیم اصلاحاتی حکمت عملی میں جدید نصاب و تدریس، تحقیق کے لیے گرانٹس اور کمرشلائزیشن، صنعت و جامعات کا ربط، ٹیکنالوجی و اے آئی کے انفرااسٹرکچر کی ترقی ،کارکردگی پر مبنی گورننس، مقامی مسائل کے لیے کمیونٹی انگیجمنٹ ،گریجویٹ روزگار اور مہارت سازی شامل ہے۔فورم میں پیش کردہ وژن میں اسلامی دنیا کی جامعات کا آئیسیسکو نالج الائنس (جوائنٹ ڈگریز اور دوہری پی ایچ ڈی پروگرامز)اسلامی گرینڈ چیلنجز فنڈ ، تحقیق کے لیے (موسمیاتی تبدیلی، توانائی، صحت، خوراک و پانی کی سکیورٹی)،ڈیجیٹل ایجوکیشن ٹرانسفارمیشن (ایم او او سیز، اوپن لائبریریز، ملٹی لنگوئل پلیٹ فارمز) اسلامی فنانس، تنازعہ علوم اور کلائمیٹ ٹیک میں آئیسیسکو سنٹرز آف ایکسیلنس،یوتھ ریسرچ موبلٹی پروگرام (فیلوشپس، رہنمائی، ینگ سکالرز کونسل) شامل ہے۔فورم کی جانب سے سرکاری اعزاز میں کہا گیاکہ پروفیسر احسن اقبال علم و ترقی پر مبنی پاکستان کے معمار ہیں ، ایک وژنری، اصلاح پسند اور فکری رہنما جنہوں نے عمل کے ذریعے پاکستان کو آگے بڑھایا۔پروفیسر احسن اقبال نے یہ اعزاز وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی حمایت کے نام کیا اور کہاکہ یہ ایوارڈ ہر اس نوجوان کے لیے ہے جو خواب دیکھتا ہے، ہر استاد کے لیے جو علم کی شمع جلاتا ہے اور ہر ادارے کے لیے جو تبدیلی پر یقین رکھتا ہے۔ آئیے علامہ اقبال کے خواب کو اپنا رہنما بنائیں ، ایک خوددار، روشن خیال اور علم دوست مسلم معاشرہ تشکیل دیں ۔یہ عالمی اعزاز پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلیمی اثر و رسوخ اور اسلامی دنیا میں علمی قیادت کے کردار کا عملی ثبوت ہے۔

Comments are closed.