الحمدللہ! دنیا نے ہماری عسکری قیادت کو تسلیم کر لیا پاکستان ایک باوقار اور طاقتور قوم کے طور پر اُبھر رہا ہے. وزیر برہان علی گلگت بلتستان
الحمدللہ! دنیا نے ہماری عسکری قیادت کو تسلیم کر لیا پاکستان ایک باوقار اور طاقتور قوم کے طور پر اُبھر رہا ہے. وزیر برہان علی گلگت بلتستان
الحمدللہ! آج دنیا نہ صرف ہماری عسکری قیادت کی صلاحیتوں کو تسلیم کر رہی ہے بلکہ یہ ربِ کریم کی خاص عنایت ہے کہ پاکستان کو ایک باوقار اور طاقتور قوم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس تاریخی مقام تک پہنچنے کا سارا کریڈٹ ہمارے مردِ آہن، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو جاتا ہے، جنہوں نے ملکی مفادات کا مؤثر انداز میں دفاع کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف بےباکی سے پیش کیا۔
یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے، جو کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور عسکری وقار کی دلیل ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں امریکہ کا سرکاری دورہ کیا، جہاں واشنگٹن ڈی سی میں انہوں نے اعلیٰ امریکی اسکالرز، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور معروف بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے تفصیلی اور بامقصد ملاقاتیں کیں۔
اس دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے امریکی تھنک ٹینکس اور عالمی اسٹریٹیجک اداروں کے نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو واضح کیا اور خطے و دنیا کے اہم مسائل پر پاکستان کے مؤقف کی تفہیم کو گہرا کیا۔
اپنی گفتگو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کو اجاگر کیا اور عالمی قوانین پر مبنی نظم و نسق کے قیام میں پاکستان کے تعمیری کردار پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات اور تجزیات پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض علاقائی عناصر دہشت گردی کو بطور ہائبرڈ وارفیئر کے آلہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اور پاکستان نے ہمیشہ اس کے خلاف صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی ترقی کی بے پناہ ممکنات پر بھی روشنی ڈالی۔ خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، اور معدنی وسائل جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر عالمی شراکت داروں کو دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ترقی کی بےشمار راہیں موجود ہیں، جن سے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی خوشحالی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
آرمی چیف نے پاکستان کے متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجی پالیسی مؤقف پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے بین الاقوامی قوانین، مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ علاقائی کشیدگیوں کو کم کرنے اور مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل نے پاکستان اور امریکہ کے دیرینہ تعلقات کا بھی جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے انسداد دہشت گردی، علاقائی سیکیورٹی، اور معاشی ترقی جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک وسیع تر، کثیرالجہتی شراکت داری کی شکل دی جا سکتی ہے جو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہو۔
شرکاء نے آرمی چیف کے مؤقف کی شفافیت اور حقیقت پسندی کو سراہا، اور پاکستان کی مستقل مزاج اور اصولی پالیسیوں کی تعریف کی۔
یہ ملاقات عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو بڑھانے میں ایک اہم قدم ثابت ہوئی، جس سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک مکالمے کو مزید تقویت ملی۔
یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا مظہر ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر شفافیت، امن، اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے، باوقار انداز میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔
Comments are closed.