وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے نیشنل سیکورٹی ورکشاپ گلگت بلتستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایف سی این اے اور ورکشاپ کے منتظمین کو گلگت بلتستان سطح پر تیسری دفعہ سیکورٹی ورکشاپ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں
وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے نیشنل سیکورٹی ورکشاپ گلگت بلتستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایف سی این اے اور ورکشاپ کے منتظمین کو گلگت بلتستان سطح پر تیسری دفعہ سیکورٹی ورکشاپ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، قومی سلامتی ایک اہم عنصر ہے اسکی تعریف محض دفاعی صلاحیتوں اور تحفظ تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی میں کسی بھی ریاست کی جانب سے اپنے تحفظ و استحکام کیلئے اٹھائے گئے تمام اقدامات شامل ہیں جن میں معاشی ، سیاسی ، انسانی سلامتی کے علاؤہ خوراک ، سائبر ، ڈیجیٹل ، پانی ، ماحولیات و دیگر قومی سلامتی کے عناصر شامل ہیں ۔ گلگت بلتستان سطح پر اس نوعیت کی ورکشاپ کی بہت ضرورت تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ قومی سطح پر درپیش چیلنجز اور بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے پر اپنا سکہ قائم رکھنے کیلئے ہر شہری کو قومی سلامتی کا ادراک رکھنا ضروری ہے ۔ قومی سلامتی کے بنیادی عناصر میں سلامتی ، وقار اور خوشحالی سر فہرست ہیں اور ہر ریاست قومی سلامتی ،قومی وقار کی بلندی اور خوشحالی کیلئے مجموعی اقدامات اٹھاتی ہے اور یہ تمام اقدامات قومی سلامتی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ میں ورکشاپ کے تمام شرکاء سے یہ امید رکھتا ہوں کہ گزشتہ ایک ہفتے میں اپنے میدانوں اور مضامین میں ماہر مقررین نے مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی ہوگی ساتھ ہی سوال و جواب اور مکالمے کا چلن بھی عام ہوا ہوگا ، مجھے امید ہے کہ اس ورکشاپ سے عالمی منظرنامے پر بدلتے حالات سمیت اپنے ملک کے تمام اداروں کی حقیقی تصویر بھی سامنے آئی ہوگی ، اس میں دو رائے نہیں کہ اس طرح کی ورکشاپس سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو نیا راستہ مہیا کرتے ہیں اور مکالمے کی فضا کو پروان چڑھانے سمیت حقیقت پر مبنی پہلو کو سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور سوچنے کے محدود انداز کو عالمگیر سطح پر دیکھنے اور پرکھنے کا نیا سمت بھی فراہم کرتے ہیں۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے شرکاء کے تمام سوالات کے مدلل جوابات بھی دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کیلئے خود محنت کرنی ہوگی ، اور اپنے اوپر خرچ کرنے کیلئے بجلی سمیت دیگر بیلات اور ٹیکسس ادا کرنے ہوں گے ، انہوں نے کہا کہ بجلی کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے اور مختصر مدت میں 11 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کیا ہے ، کچھ منصوبے چند مہینوں میں مکمل ہوں گے ، گندم کی سبسڈی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی ہے ، لینڈ ریفارمز بل عوامی مفاد میں ہے اور پہلی دفعہ یہ بات حکومت کی طرف سے طے ہوئی ہے کہ زمینوں پر عوام کی ملکیت ہے ، چار نئے اضلاع بنا کر فعال کیا ہے جس سے وہاں کے مکینوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل کا حل انکی دہلیز پر مل رہا ہے ۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے سیکورٹی ورکشاپ کا انعقاد نوجوان نسل کی ذہنوں میں پائے جانے والی غلط فہمیاں دور کرنے، افواج پاکستان اور پیدا کردہ بیانیہ و تاثرات کے بیچ مماثلت سمیت پراپیگنڈہ وار کے خلاف موثر متبادل حکمت عملی قرار دیتے ہوئے ورکشاپ کا دائرہ کار قومی سطح کے مطالعاتی دوروں تک بڑھانے کی تجویز بھی دی ۔
Comments are closed.