بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں بین الاقوامی تنظیم نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام و بی ایف اے کے تعاون سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا
کوئٹہ 18 جون: بلوچستان فوڈ اتھارٹی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں بین الاقوامی تنظیم نیوٹریشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام و بی ایف اے کے تعاون سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں کوئٹہ اور گردونواح سے آٹا چکیوں کے مالکان نے بھرپور شرکت کی۔ورکشاپ کا مقصد آٹے کی تیاری کے دوران غذائی تحفظ، فورٹیفکیشن کے جدید طریقہ کار اور QA/QC فوڈ سیفٹی پروٹوکولز پر چکی مالکان کو تربیت فراہم کرنا تھا۔ ماہرین نے تفصیل سے بتایا کہ آٹے میں آئرن، فولک ایسڈ، زنک اور وٹامن12-B جیسے اہم غذائی اجزا شامل کرنا کس طرح خون کی کمی، دماغی کمزوری اور پیدائشی بیماریوں کے خلاف مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین اور پانچ سال سے کم عمر کے بچے غذائی قلت اور خون کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، جو نہ صرف صحت کے مسائل بلکہ دورانِ حمل پیچیدگیوں اور نوزائیدہ اموات کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں۔ فورٹیفائیڈ آٹے کا استعمال ان کمزوریوں اور بیماریوں میں خاطر خواہ کمی لا سکتا ہے۔شرکاء نے ورکشاپ میں بھرپور دلچسپی لی اور اس اہم تربیتی پروگرام کو سراہتے ہوئے فورٹیفکیشن کے عمل کو عملی طور پر اپنانے کا یقین دلایا۔ اس موقع پر نیوٹریشن انٹرنیشنل کی جانب سے بی ایف اے کے ساتھ اشتراک کو سراہا گیا۔ بعدازاں ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی وقار خورشید عالم نے تربیتی سیشن کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے ورکشاپ بلوچستان میں محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم ہے جس سے نہ صرف صارفین مستفید ہوں گے بلکہ مقامی سطح پر خوراک کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، ڈائریکٹر جنرل کے مطابق آٹے کی فورٹیفکیشن اور سائنسی اصولوں کے تحت کام نہ صرف صارف کی صحت کو بہتر بناتا ہے بلکہ یہ فوڈ سیفٹی کی مجموعی پالیسی و قوانین کا اہم حصہ ہے۔ آخر میں نیوٹریشن انٹرنیشنل کی ٹیم نے تعاون کے اعتراف میں ڈی جی بی ایف اے کو خصوصی شیلڈ بھی پیش کی۔
Comments are closed.