بے نظیر نشوونما پروگرام کے زیر اہتمام ڈبلیو ایف پی کے تعاون سے ماں کے دودھ کے متعلق ایک روزہ سیمینار کا اہتمام ڈی سی أفسں کانفرنس حال میں  کیا گیا

21

لورالائی 18جون: بے نظیر نشوونما پروگرام کے زیر اہتمام ڈبلیو ایف پی کے تعاون سے ماں کے دودھ کے متعلق ایک روزہ سیمینار کا اہتمام ڈی سی أفسں کانفرنس حال میں  کیا گیا،جس میں ورلڈ ایشین بنک ڈویلمپنٹ کے ڈاکٹر زہرہ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ أفیسرلورالائی عبدالحمید لہڑی،چلیڈ اسپلیسٹ ڈاکٹر حنیف،غذائیت کے ماہریونیسیف سید طارق علی،ورلڈ فوڈ پروگرام کے محمد اسلم،پروگرام منیجر منظور مائی،نیوٹر یشن یو نیسیف ڈاہر یکٹر محمد ظہیر خان سمت صحافیوں  اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی  سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا  مقررین نے کہا کہ ماں کی دودھ  بچے کے بنیادی حقوق میں سے اولین حق  ہے کہ ماں اسے پاک صاف ماحول میں ہر دو گھنٹے بعد اپنا دودھ پلائے ماں کے دودھ میں قدرت نے کئی بیماریوں سے لڑنے کی قوت عطاء فرمائی ہے۔نوزائیدہ بچے کیلئیماں کا دودھ اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اس ایک غذا میں تمام وٹامنز، آئرن، پروٹین اور منرل شامل ہیں۔ جو نوزائیدہ بچے کے تمام جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے ماں کو ہر حال میں بچے کو مکمل دو سال تک اپنا ہی دودھ پلانا چاہیے۔  ماں کا دودھ قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جسکا نعم البدل جدید سائنس بھی پیش نہیں کرسکتا، سائنسی تحقیقات بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ دوسال تک بچے کیلئے سب سے زیادہ فائدہ مند صرف اور صرف ماں کا دودھ ہے, ہرسال بریسٹ فیڈنگ ویک منانے کا مقصد خواتین میں ماں کے دودھ کی افادیت کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وقتاً فوقتاً اور مختلف فورم پر تقریبات اور سیشن منعقد کرواکر ہر ماں میں یہ شعور اجاگر کریں گے کہ وہ اپنے بچے کو صرف اور صرف اپنا دودھ پلائے۔ کیونکہ ایک صحت مند بچہ ہی ایک صحت مند انسان بن سکتا ہے۔ اور ایک صحت مند انسان ہی ایک صحت مند معاشرہ بنا سکتا ہے,

Comments are closed.