وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی،آزادکشمیر کے دیہی علاقوں میں مجموعی طو رپر 83 فیصد آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے

25

مظفرآباد(پی آئی ڈی)18جون: وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی،آزادکشمیر کے دیہی علاقوں میں مجموعی طو رپر 83 فیصد آبادی کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مصروف عمل ہے۔ محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے تحت روبہ عمل منصوبہ جات میں کچی و پختہ دیہی رابطہ سڑکیں‘ معلق پل ہاء‘پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ صحت و صفائی کے منصوبہ جات‘پرائمری سکولز و صحت کے مراکز کی عمارات‘کھیلوں کے میدان، ماڈل قبرستان و جنازہ گاہوں کی تعمیر سمیت دیگر بنیادی ضروریات کے منصوبہ جات شامل ہیں۔موجودہ حکومتی پالیسی اورحکمت عملی کے مطابق منصوبہ جات کی نشاندہی سے تکمیل کے مراحل تک مقامی عوام کی شرکت کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اور بعد از تکمیل منصوبہ جات کی دیکھ بھال مقامی آبادی کے ذریعے ہو رہی ہے۔مزید برآں، حکومت کی جانب سے رواں مالی سال2024-25؁ء میں بلدیاتی ادارہ جات کے لیے کل1ارب60کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہ نظرثانی شدہ ترقیاتی میزانیہ برائے مالی سال 2024-25 ؁ء میں محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کے لیے04ارب 39کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔جب کہ مالی سال2025-26؁ء میں جاریہ و نئے منصوبہ جات کے لیے 05ارب روپے کی خطیر رقم مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔ جن کے خلاف کچی و پختہ دیہی رابطہ سڑکیں‘ معلق پل ہاء، پینے کے صاف پانی کی فراہمی،صحت و صفائی کے منصوبہ جات‘ سکولز و صحت کے مراکز کی عمارات، کھیلوں کے میدان، ماڈل قبرستان و جنازہ گاہوں کی تعمیر سمیت دیگر بنیادی ضروریات کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔آزاد کشمیر میں چین سے بطورگرانٹ موصول شدہ150واٹرفلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور پہلے سے نصب شدہ 150واٹرفلٹریشن پلانٹس کی اوورہالنگ کے لئے 45کروڑ سے زائد کے 2منصوبہ جات شروع کیئے گئے ہیں نیز مظفرآباد شہر میں سالڈویسٹ مینجمنٹ کے لئے جدید مشینری کی خرید کے لئے26کروڑ روپے سے زائد کا منصوبہ منظور کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کے تحت نان پی سی ون مدات مثلاً تعمیر و مرمتی محکمانہ عمارات‘ سو شل سیکٹر پروگرام،کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام اور لوکل کونسل ہا کے لیے امدادی پروگرام جیسی مدات کے تحت مالی سال 2024-25؁ میں مختلف نوعیت کے عوامی فلاح و بہبودکے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیاجا رہا ہے۔جن میں دیہی رابطہ سڑکات و پختگی گلیات کے علاوہ دیہی علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی،صحت و صفائی کے منصوبہ جات،محکمہ کی سرکاری عمارات کی تزین و مرمت، کھیلوں کے میدان اور پل ہاء کی مرمت و دیگر منصوبہ جات شامل ہیں۔اگلے مالی سال 2025-26 میں بھی ان مدات کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبہ جات کے لیے 04 ارب 08 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہمالی سال 2024-25 ؁ء میں سب سیکٹر بحالیات کے لیے نظر ثانی شدہ میزانیہ میں 31کروڑ 94 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جس کے تحت ”تعمیر چاردیواری کشمیر کالونی ہاء چکوال، اٹک اور واہ کینٹ اور 12 مہاجر کالونی ہاء واقع پاکستان مالیتی 13 کروڑ 77 لاکھ روپے کے بقیہ ترقیاتی کاموں کے لئے اور ”خرید اراضی برائے موجودہ مہاجرکیمپ ہاء برائے مہاجرین1989ء ومابعد“مالیتی28کروڑ 30لاکھ روپے، ”کشمیری مہاجرین مقیم پاکستانی کی کالونیز میں ترقیاتی کا م وشکر گڑھ میں کمیونٹی سنٹر کا قیام“ مالیتی 30کروڑ 50لاکھ روپے اور ”جموں وکشمیر کے مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی“ مالیتی 24 کروڑ روپے روبہ عمل ہیں۔ لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ کے ذیلی سب سیکٹرز بحالیات اور لینڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ مینجمنٹ کے لیے اگلے مالی سال 2025-26 میں 01 ارب15کروڑروپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہ شہری دفاع و ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے لیے مالی سال2024-25؁ء میں 13کروڑ 06 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جن کے خلاف مظفرآباد، میرپور،راولاکوٹ اور کوٹلی میں واٹر ریسکیو سروسز کے قیام کے منصوبہ پر عملدرآمد شروع کیا گیا۔ واٹر ریسکیو سروسز سنٹر کے اجراء سے ان اضلاع میں جہاں واٹر باڈیز کی موجودگی کے باعث جانی و مالی نقصانات کا احتمال ہے، سے بچنے میں مدد ملنے کیلئے منصوبہ پر کام جاری ہے۔آئیندہ مالی سال میں اس منصوبہ کو 08 کروڑ 28 لاکھ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔جبکہ مجموعی طورپر مالی سال 2025-26؁ء میں اس سیکٹرکے لیے15 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے جس سے حکومتی ترجیحات کے مطابق نئے منصوبہ جات کو بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایا کہ شہری دفاع و ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے لیے مالی سال2024-25؁ء میں 13کروڑ 06 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔جن کے خلاف مظفرآباد، میرپور،راولاکوٹ اور کوٹلی میں واٹر ریسکیو سروسز کے قیام کے منصوبہ پر عملدرآمد شروع کیا گیا۔ واٹر ریسکیو سروسز سنٹر کے اجراء سے ان اضلاع میں جہاں واٹر باڈیز کی موجودگی کے باعث جانی و مالی نقصانات کا احتمال ہے، سے بچنے میں مدد ملنے کیلئے منصوبہ پر کام جاری ہے۔آئیندہ مالی سال میں اس منصوبہ کو 08 کروڑ 28 لاکھ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔جبکہ مجموعی طورپر مالی سال 2025-26؁ء میں اس سیکٹرکے لیے15 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے جس سے حکومتی ترجیحات کے مطابق نئے منصوبہ جات کو بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہشعبہ صنعت وحرفت کو مالی سال2024-25کے نظرثانی ترقیاتی میزانیہ کے تحت19کروڑ 87لاکھ روپے فراہم کئے گئے۔ جسکے تحت پٹرولیم مصنوعات و اُوزان و پیمائش کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے لیبارٹریز کا قیام، نظامت صنعت، لیبر و ابریشم کی عمارات کی تعمیر, روایتی کشمیری دستکاری کے فروغ کے منصوبہ جات کی تکمیل کے علاوہ اخوت اسلامک مائیکروفنانس کے اشتراک سے آزادکشمیر میں خود انحصاری کے لئے قرضہ جات کے پہلے مرحلہ کو مکمل کرتے ہوئے کم آمدن والے1لاکھ 2ہزارسے زائد افراد کو مبلغ4ارب روپے سے زائد بلاسود قرضہ جات فراہم کیے گئے جس سے بے روزگاری میں کمی ہو گی۔AJK SICکے حوالہ سے1.50کروڑ روپے گرانٹ کی فراہمی کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں شعبہ صنعت وحرفت کے تحت ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آمدہ مالی سال 2025-26ء کے لیے92کروڑ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔ آزادکشمیر میں بے روزگاری کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت نے ”وزیر اعظم یوتھ لون پروگرام“ مالیتی ایک ارب روپے کا منصوبہ شرو ع کیا ہے جس کے ذریعے مرد و خواتین، ٹرانسجنڈر اور معذور افرادکو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے جس سے روزگار کی فراہمی کے علاوہ فی کس آمدن میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔علاوہ ازیں اخوت اسلامک مائیکرو فنانس کے اشتراک سے نیا مرحلہ جاری رکھنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔صنعتی ترقی ا ور ابریشم کے فروغ کے انفراسٹرکچر کی فراہمی و بحالی، ریاست میں معدنی ذخائر کی تلاش کے آلات کی فراہمی کے علاوہ ضلع نیلم میں قیمتی معدنی وسائل کی فیزی بیلٹی سٹڈی اور روبی کی تلاش و تحقیق کے منصوبہ جات مکمل کیے جائیں گے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہ آزاد جموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹرنینگ اتھارٹی کو مالی سال 2024-25ء میں 06کروڑ روپے فراہم کئے گئے جبکہ مالی سال 2025-26ء میں 28کروڑ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔جس سے برسالہ کے مقام پر تربیتی مرکز کے لئے زمین کے معاوضہ جات کی ادائیگی کی جائے گی۔علاوہ ازیں تمام ٹریننگ سنٹرز میں جاری مختلف ٹریڈز کے لیے جدید مشینری اور آلات مہیا کیے جانے کا منصوبہ بھی زیر کار رہے گا تاکہ نوجوان نسل کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھا یا جاسکے۔ اِس کے علاوہ ٹرانسپورٹ سیکٹرکی ترقی و بہتری کے لیے آمدہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26میں 3کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہمحکمہ زراعت، لائیوسٹاک، آبپاشی و اسما کے لئے رواں مالی سال 2024-25ء میں 21کروڑ 23لاکھ روپے سے زائد اخراجات عمل میں لائے گئے ہیں۔ محکمہ زراعت کااولین مقصد پائیدار زرعی ترقی ہے۔جسکو حاصل کرنے کے لیے ریاست بھر کے زمینداران کو گندم اور مکئی کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کے لئے اعلیٰ اقسام کا بیج، کھاد اور کرم کش ادویات نصف قیمت پر فراہم کی گئیں۔آئیندہ مالی سال 2025-26ء میں زراعت لائیوسٹاک، آبپاشی و اسما کے ترقیاتی میزانیہ میں 90کروڑ روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ زراعت کے سب سیکٹر”کراپس اینڈ ہارٹیکلچر“ کو مالی سال2024-25ء کے دوران 06کروڑ99لاکھ روپے فراہم کئے گئے۔رواں مالی سال میں چالیس ہزار سے زائد جنگلی کہو کے پودہ جات پرزیتون کی بڈنگ /گرافٹنگ کی گئی اور زیتون کے 47,000پودہ جات رعائتی انراخ پر زمینداران کو فراہم کیئے گئے۔ آئیندہ مالی سال میں زیتون کے 1500پودہ جات فراہم کیئے جا نے کے علاوہ ایک لاکھ بارہ ہزارسے زائد پودہ جات کی پیوندکاری کی جائیگی۔ ڈڈیال اور ضلع میرپور کے عوام اور سیاحوں کی تفریح کے لیے دھینگل ڈڈیال ضلع میرپور میں پارک کی تعمیر عمل میں لائی جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ لائیو سٹاک کو رواں مالی سال کے دوران 12کروڑ 34لاکھ روپے فراہم کئے گئے جبکہ آئیندہ مالی سال 2025-26میں 32کروڑ 40لاکھ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔ 50%کمیونٹی شیئر کی بنیاد پر تمام اضلاع میں 121چھوٹے بڑے Sheep & Goat form قائم کئے جائیں گئے اور جانوروں میں Foot and Mouth Disease (منہ کھر) کی بیماری کے خلاف مفت ویکسین مہیا کی جائیگی۔ جبکہ آ زاد کشمیر بھر میں دو ہزاراچھی نسل کی گائیوں /بچھڑیوں کی خرید کیلئے 10کروڑروپے کی گرانٹ دی گئی ہے جس سے مصنوعی افزائش نسل کو فروغ دیا جائے گا۔ محکمہ آبپاشی کیلئے رواں مالی سال میں ایک کروڑ 40لاکھ روپے فراہم کئے گئے جس کے تحت کھڑی اریگیشن چینل کی تعمیر اور اپر جہلم کنال کی مرمتی کا کام جاری ہے۔ آئیندہ مالی سال 2025-26کیلئے 21کروڑ 50لاکھ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے تاکہ کھڑی اریگیشن چینل12کلو میٹر، 4راجباہ جات کی مرمتی اور اریگیشن سائٹ آفس کا تعمیراتی کام مکمل کیا جا سکے جس سے مزید 5000ایکڑ زرعی رقبہ کو سیراب کیا جائیگا۔ ایکسٹینشن سروسز مینجمنٹ اکیڈمی (اسما) گڑھی دوپٹہ میں طلبا و طالبات کے تدریسی و تربیتی عمل کو بہتر بنانے کے لئے رواں مالی سال کے دوران 50لاکھ روپے مہیا کئے گئے جبکہ آئیندہ مالی سال میں اس ادارہ کے لیئے3کروڑ70لاکھ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہعوام کو معیاری اور ملاوٹ سے پاک غذائی اجناس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ خوراک کی ایک ترقیاتی سکیم کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے 3 ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں 3عدد موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی گئیں۔ جو تینوں ڈویژن میں فعال ہیں۔ جس کے لیے رواں مالی سال کے دوران 04کروڑ 17لاکھ روپے مختص کئے گئے۔یہ سکیم تکمیل کے مراحل میں ہے۔ آئیندہ مالی سال2025-26 میں محکمہ خوراک کے لیے ایک ارب 9 کروڑ روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہسالانہ ترقیاتی پروگرام2024-25ء میں جنگلات سیکٹر کیلئے 35کروڑ42لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔جس کے تحت 2175 ایکڑ رقبہ جنگلات کی حد بندی کرتے ہوئے 1,000 پختہ و نیم پختہ برجیات بھی تعمیر کی گئی ہیں۔نیز 150 ایکٹررقبہ پر21,750 بیجوں کی dibbling کا کام بھی کروایا گیا ہے۔آزاد کشمیر بھرکے جنگلات میں آگ کی روک تھام کے لیے جاریہ منصوبہ کے تحت 90کلو میٹر فائر بریک لائنز قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 400 کلو میٹر سڑکات سے آتش گیرموادکی صفائی کا کام بھی جاری ہے۔مزید براں جدیدفائر فائٹنگ آلات و لباس خرید کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ آئیندہ مالی سال 2025-26 میں جنگلات / واٹر شیڈ سیکٹر کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ آمدہ سال کے دوران 500 ایکڑ رقبہ پر چراگاہوں کی ترقی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور بنک روڈ مظفرآباد اور بھمبر کے مقامات پر فارسٹری کمپلیکس کی تعمیرکے علاوہ جنگلات کو آگ سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہ محکمہ وائلڈ لائف و فشریز کو مالی سال2024-25 ء میں 14لاکھ 32 ہزار روپے فراہم کیئے گئے ہیں۔ سراں پیر چناسی، بنجوسہ اور منگلا میں جنگلی حیات کے بریڈنگ سنٹر/ چڑیا گھروں کی فعالی کے جاریہ منصوبہ کی تکمیل کی گئی ہے۔آئندہ مالی سال2025-26 میں اس سیکٹر کے لئے 07 کروڑ 50لاکھ روپے مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے پیش نظرقدرتی ماحول کا بچاؤ بین الاقوامی سطح پر اولین ترجیح اختیار کرچکا ہے۔ پاکستان بشمول آزادکشمیران ماحولیاتی و موسمیاتی مضر اثرات سے متاثر ہونے والے سر فہرست دس غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ آزاد جموں وکشمیر کی عوامی حکومت کی ترجیحات میں قدرتی ماحول کا بچاؤ اولین ترجیح رکھتا ہے اور اس کے خوبصورت قدرتی ماحول کے بچاؤ کے لیئے حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2024-25 میں ماحولیات سیکٹر کیلئے4 کروڑ83 لاکھ روپیسے زائد فراہم کیئے گئے ہیں۔یہ رقم ماحولیات کے جاریہ 03 منصوبہ جات کی تکمیل کرتے ہوئے محکمہ کی استعداد کار کو بڑھانے، ماحولیاتی مانیٹرنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ماحولیاتی آلودگی اور کلائمیٹ چینج کے حوالہ سے آگاہی اور تربیت سے متعلقہ اقدامات پر خرچ کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ آئیندہ مالی سال 2025-26کے سالانہ ترقیاتی میزانیہ میں ماحولیات سیکٹر کیلئے15 کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔ جس کے تحت آزاد کشمیر میں پینے کے پانی کی کوالٹی ٹیسٹنگ اور قدرتی ماحول کے بچاؤ کے لیے آلودگی کو کم کرنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی غرض سے بروقت اور موثر اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہآزاد کشمیر کی عوامی حکومت سیاحت کے شعبہ کو تر جیحی بنیادوں پر وسائل فراہم کر رہی ہے۔تاکہ ریاست کی معیشت کومضبوط بنیادوں پر استوارکیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحوں کو بہتر اقامتی، سفری اور تفریحی سہولیات کی فراہمی کی غرض سے سیاحت کے شعبہ کو موثر صنعت میں تبدیلی کیلئے حکومت آزادکشمیر نہایت مربوط اور منظم حکمتِ عملی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہاکہ مالی سال2024-25؁ کے دوران سیاحت و آثار قدیمہ کے لیئے 6کروڑ 98لاکھ روپے فراہم کیئے گئے جس کے تحت آزادکشمیر میں مظفرآباد قلعہ کی مرمتی و بحالی،سیاحتی مقامات کی تزئین و آرائش اور تفریح گاہو ں کے منصوبہ جات پر عملدرآمد جاری ہے۔علاوہ ازیں حکومتی ترجیحات کے مطابق محکمہ سیاحت کے موجودہ اثاثہ جات کی سہ فریقی تحقیق کروائے جانے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقامات کی ماسٹر پلاننگ کے لیے مشاورتی خدمات کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2025-26؁ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شعبہ سیاحت کے فروغ کیلئے 70کروڑروپے کی خطیر رقم مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔جس سے سیا حوں کو مزید بہتر سہولیات کے فروغ کے لیے اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہحکومت آزاد کشمیردور حاضر میں سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں جدت اور فروغ پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہے۔رواں مالی سال 2024-25ء میں اس سیکٹرکو40کروڑ 16لاکھ93ہزار روپے فراہم کیئے گئے جس کے تحت آزادکشمیرمیں مختلف محکمہ جات جن میں بورڈ آف ریونیو کے لینڈ ریکارڈ، زیریں عدلیہ اور الیکشن کمیشن کی خود کاری کے علاوہ ڈومیسائل و ریاستی باشندہ سر ٹیفکیٹ کی آٹومیشن اور سیکرٹریٹ کے تمام دفاتر میں E-Office و بائیو میٹرک حاضری کے منصوبہ جات پر کام جا ری ہے۔جب کہ16تحصیلوں میں ٹیلی ہیلتھ سینٹرز کا قیام، پونچھ اور مظفرآباد میں IT Excellence سینٹرزکے قیام کے منصوبہ جات پر بھی عمل درآمد کیا جارہا ہے۔جبکہ باغ، بھمبر، کوٹلی اور ازاں بعد باقی ماندہ اضلاع حویلی، پلندری، نیلم اور جہلم ویلی میں بتدریج سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ مالی سال 2025-26ء ؁کے سالانہ ترقیاتی میزانیہ میں شعبہ ہذا کے لیے 80 کروڑ روپے کی رقم مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہ محکمہ تعلقات عامہ آزاد خطہ کے اندر تعمیر و ترقی، گڈگورننس اور انصاف کی فراہمی کیلئے کی جانے والی کوششوں کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں اجاگر کر رہا ہے۔ محکمہ تعلقات عامہ نے اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ان شعبوں کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کیے ہیں بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا کے رولز اور پالیسی بنا کر پاکستان بھر میں دیگر صوبوں پر برتری بھی حاصل کی ہے – مالی سال2024-25 ؁ء میں محکمہ تعلقات عامہ کو7کروڑ 91 لاکھ 46 ہزار روپے فراہم کیئے گئے جبکہ مالی سال 2025-26 ؁ء میں 20کروڑ روپے فراہم کیئے جانے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہحکومت آزاد کشمیرخواتین کی ترقی اور معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقات بالخصوص بیوہ،بے سہارا، اور نا مساعد حالات کی شکار خواتین،یتیم بچیوں کی فلاح و بہبو د،نوجوانوں، بوڑھوں اور معذور افراد کے حقوق کے تحفظ،ان کی فلاح وبہبود اور بحالی کے لئے مصروف عمل ہے، تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بن کر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔جبکہ محکمہ ترقی نسواں موجودہ حکومت کے بنیادی منشور کے تحت خواتین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کے ساتھ انہیں معاشی طور پر مستحکم ومضبوط کرنے، بااختیار بنانے اور ان کے بنیادی حقوق سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ سماجی بہبود کیلئے رواں مالی سال 2024-25میں 90لاکھ21ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔جس کے خلاف سوشل پروٹیکشن پروگرام،چائیلڈ پروٹیکشن پروگرام، محکمہ کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور این جی اوز ریگولیٹری سیل کے منصوبہ جات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔محکمہ سماجی بہبود کے لیئے مالی سال2025-26ء میں 15کروڑروپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ ترقی نسواں کے لیئے مالی سال 2024-25ء کے دوران 4کروڑ 40لاکھ روپے فراہم کیئے گئے۔ محکمہ ہذا خواتین کے لئے موجودہ وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید فنون پر مشتمل مختلف ٹریڈز میں تربیتی کورسز کا اہتمام، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور آگاہی کے لئے ستم زدہ خواتین کی مکمل بحالی اور آباد کاری کو یقینی بنانا اور ان مراحل کے دوران مفت رہائش، قانونی اور طبی امداد و خوراک کی فراہمی کے لیئے کوشاں ہے۔ شیلٹر ہومز سے ہر سال تقریبا 200 خواتین کو سروسز مہیا کی جارہی ہیں -انہوں نے کہاکہ محکمہ ترقی نسواں کے لئے مالی سال 2025-26ء میں 15کروڑ روپے مختص کیئے جانے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2024-25ء میں محکمہ تعلیم /ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کیلئے 39کروڑ14لاکھ ر وپے مہیا کیے گئے ہیں۔ اس رقم سے 4پرائمری اور 29مڈل سکولز کی عمارات کی تعمیر،12ہائی سکولوں کی مرمتی و اضافی مکانیت کے ساتھ ساتھ 75سکولز کے ہمراہ واشرومز کی تعمیر کا کام مکمل کر لیاگیا ہے۔ علاوہ ازیں 111ہائی و ہائیر سیکنڈری سکولز کو فرنیچر فراہم کر دیا گیا ہے جبکہ 300پرائمری اور 315 مڈل سکولز میں فرنیچر اور دیگر سامان کا جاریہ کام آمدہ مالی سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔ عدالتی فیصلہ جات کی روشنی میں حصول اراضی کے لئے معاوضہ جات کی ادائیگیاں بھی زیر کار ہیں۔انہوں نے کہاکہ آمدہ مالی سال 2025-26میں اس شعبہ کے لیے3 ارب 10کروڑ روپے بشمول بیرونی امداد مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ اگلے مالی سال کے دوران32 سکولز کی عمارات مکمل کی جائیں گی۔علاوہ ازیں ایک ارب 96کروڑ روپے مالیت کے مختص شدہ فنڈز سے حکومتی ترجیحات اور عوامی ضروریات کے پیش نظر آزادکشمیر بھر میں مختلف ادارہ جات کے لیے نئی عمارات کی تعمیر، موجودہ عمارات کی تزئین و آرائش، چار دیواری، صاف پانی اور سامان کی فراہمی کے منصوبہ جات شامل کرنے کی تجویز ہے۔ مزید برآں، اسلامی ترقیاتی بنک کے مالی تعاون سے آوٹ آف سکول چلڈرن (Out of School Children) کیلئے ایک منصوبہ بھی منظور ہو چکا ہے جس کے تحت 60ہزار بچوں کو تعلیم دلوانے کے علاوہ 135 پرائمری سکولوں کی تعمیر اور اساتذہ کی تربیت بھی شامل ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہسالانہ ترقیاتی پروگرام 2024-25کے تحت ہائرایجوکیشن کے شعبہ کے لئے 33 کروڑ 64 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی۔ اس رقم سے آزاد کشمیر کے 06انٹر،10ڈگری اور 02پوسٹ گریجویٹ کالجز کے ہمراہ نئی عمارات اور 44کالجز کے ہمراہ ٹائلٹ بلاکس کی تعمیر کا کام جاری ہے۔حکومتی ترجیحات کی روشنی میں 51کروڑروپے کی لاگت سے مختلف تعلیمی ادارہ جات کے طلباء /طالبات کو سفری سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔ کیڈٹ کالج مظفرآباد کے ہمراہ ہاسٹل کی عمارت کی تعمیر اور یونیورسٹی آف پونچھ کے سب کیمپس منگ کے ہمراہ چاردیواری مکمل کر لی گئی ہے۔خواتین یونیورسٹی باغ کے ہمراہ چاردیواری کی تعمیر آمدہ مالی سال میں مکمل کر لی جائے گی۔انہوں نے بتایاکہ آمدہ مالی سال 2025-26میں محکمہ ہائر ایجوکیشن کے لیے01 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ اگلے مالی سال کے دوران آزاد کشمیر میں ڈویثرن وائز کالجز کی نئی عمارات کی تعمیر کے منصوبہ جات شامل کرنے کی تجویز ہے۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2024-25 کے تحت شعبہ سپورٹس، یوتھ اینڈ کلچر کے لیے 11کروڑ60لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اِس رقم سے تعلیمی ادارہ جات کے ہمراہ پلے گراونڈز اور کمیونٹی گراونڈز کے منصوبہ جا ت مکمل کئے جا رہے ہیں۔آئندہ مالی سال 2025-26میں اس سیکٹر کے لیے0 5کروڑ روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ اس رقم سے تینوں ڈویثرنز کے دیہی علاقوں میں منی گراونڈز کی تعمیر، کھیلوں کے سامان کی فراہمی،ڈڈیال سٹیڈیم کی اپگریڈیشن اور مظفرآباد سٹیڈیم میں Player Pavilionکی تعمیر کے جاریہ منصوبہ جات مکمل کیے جائیں گے جس سے نوجوانوں کے اندر مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں ایوان میں بتایاکہ محکمہ صحت عامہ کو رواں مالی سال کے لئے مبلغ1 ارب 30کروڑ 10لاکھ سے زائد روپے فراہم کیئے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت کی ترجیحات کے مطابق ایمر جنسی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایاگیا۔اس سہولت سے تقریباً 10لاکھ مریض مستفید ہوئے۔علاوہ ازیں، جاریہ منصوبہ جات کی تکمیل آئندہ مالی سال کے بجٹ کا اولین ہدف ہے۔موجودہ حکومت کی جانب سے عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے محکمہ صحت عامہ کے ترقیاتی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیاہے۔ جس کے لئے آئیندہ مالی سال2025-26ء میں مبلغ 6ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویزہے۔مختص شدہ بجٹ میں طبی مراکزکی تعمیر،اپگریڈیشن اور بحالی کے ضلعی سطح کے منصوبہ جات شامل کیئے گئے ہیں۔ جس سے ریاستی عوام کوحکومتی پالیسی کے مطابق بلاتخصیص،معیاری اوربروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں کہاکہ یہ میرے لیے باعثِ اعزاز ہے کہ میں مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بینک آف آزاد جموں و کشمیر (BoAJK) کی شاندار کارکردگی کو بھی اجاگر کر رہا ہوں۔ بینک نے اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پیشہ ورانہ قیادت اور انتظامیہ کی انتھک محنت کے نتیجے میں قابلِ قدر ترقی حاصل کی ہے، اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے اور ریاست بھر میں اپنی خدمات کو وسعت دی ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکنالو جی و معاشی ترقی میں کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے، بورڈ اور انتظامیہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے”شیڈول بینک“ کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنائی ہے۔ یہ ایک اہم سنگِ میل ہے جو Financial Inclusionاور خدمات کی فراہمی کی صلاحیتوں کو بہتر بنائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم بینک کی  Governance، رسک مینجمنٹ اور آپریشنل کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے جامع اصلاحات نافذ کر رہے ہیں، تاکہ یہ بینک آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی خوشحالی کا ایک مضبوط ستون بن سکے۔ یہ تمام اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہم BAJK کو ایک فعال، پائیدار ترقی کو فروغ دینے والا اور شہریوں کو بااختیار بنانے والا مالیاتی ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔آزادجموں وکشمیر بینک کی سال 2024 کے دوران مالی کارکردگی کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سال 2024 کے دوران بینک نے اپنے تمام منافع کے اہداف عبور کرتے ہوئے 2.00ارب روپے کا آپریٹنگ منافع حاصل کیا۔ڈپازٹس کا حصول بینکوں کا ایک بنیادی کام ہوتا ہے، مستحکم ڈپازٹس بینکوں کو لیکویڈیٹی برقرار رکھنے، رقم نکالنے کی ضروریات پوری کرنے اور مہنگے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سال کے اختتام پر بینک کے ڈپازٹس 40 ارب روپے سے تجاوز کر گئے، جو پچھلے سال 23 ارب روپے تھے۔بینک کے مجموعی اثاثے بھی بڑھ کر 53 ارب روپے ہو گئے، جو کہ گزشتہ سال 32 ارب روپے تھے۔بینکوں کی آمدن کا بڑا ذریعہ قرضہ جات ہوتے ہیں، جو کاروباری ترقی، روزگار، صارفین کی خریداری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے معاون ہوتے ہیں۔ سال 2024 میں بینک کے قرضہ جات بڑھ کر 5 ارب روپے ہو گئے۔بینک آف AJK نے ہوم ریمیٹنسز کی پروسیسنگ کے لیے مختلف ایکسچینج کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں، اور اس سال تقریباً 4 ارب روپے کی ریمیٹنسزادا کی گئی۔غیر شیڈیولڈ بینک ہونے کے باوجود بینک نے ایک مکمل کمپلائنس سسٹم تیار کیا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی تمام ہدایات و ضوابط کی رضاکارانہ پیروی کو یقینی بنایا۔پہلی بار، دو بیچز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران کو ایک سال کے لیے مقابلے کے امتحان کے ذریعے ”پیڈ انٹرنی آفیسرز“کے طور پر بھرتی کیا گیا۔آزاد جموں و کشمیر میں کل 33 کمرشل بینک کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے بینک آف آزاد جموں و کشمیر نان شیڈول ہوتے ہو ئے بھی ریاست میں بینک آف AJK ڈپازٹس کے لحاظ سے پانچواں بڑا بینک ہے۔شاخوں کی تعداد کے لحاظ سے چوتھا بڑا بینک ہے۔قرضہ جات و ADR شرح کے لحاظ سے سب سے بڑا بینک ہے۔بینک کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے شیڈیولڈ بینک کا درجہ حاصل کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ:بورڈ آف ڈائریکٹرز نے شیڈیولڈ اسٹیٹس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بینک کی اندرونی کارکردگی کو بہتر کیا۔بینک کی تمام پالیسیز اور پروسیجر مینولز کو SBP کی ہدایات کے مطابق ٹھیک کر لیا گیا ہے۔بینک اب SBP کی جانب سے جاری کردہ تمام Prudential Regulationsپر مکمل طور پر عملدرآمد کر رہا ہے۔ore Banking System (CBS) کی تنصیب SBP کی ایک اہم شرط ہے۔ اس مقصد کے لیے بینک نے اس سال ملائشیا کی ایک مشہور IT کمپنی کے ساتھ MOU پر دستخط کیے، اور جون کے آ خر میں باقاعدہ معاہدے پر دستخط ہوں گے تاکہ CBS اور ڈیجیٹل چینلز جیسے ATM وغیرہ کی تنصیب کا آغاز ہو سکے۔SBP کی شرط کے مطابق 10 ارب روپے کا ادا شدہ سرمایہ درکار ہے، جس میں سے 7.1 ارب روپے کی تکمیل ہو چکی ہے، اور باقی رقم حکومت فراہم کرے گی۔ ان سب اقدامات کے بعد اب ہم SBPمیں شیڈول بینک کے لیے درخواست جمع کروا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ  کشمیری تارکین وطن کی سہولت کے لیے بینک نے اپنی ذیلی ‘BAJK”ایکسچینج کمپنی“ قائم کرنے کے لیے SBP میں درخواست جمع کرائی ہے، جس کی تمام Requirementsمکمل کی جا چکی ہیں۔ SBP سے جلد ہی لائسنس ملنے کی توقع ہے۔ پاکستان میں ایکسچینج کمپنی کے قیام کے بعد، بینک نے برطانیہ میں بھی ایکسچینج کمپنی کے قیام کے لیے اقدامات کیے جا ٰئیں گے جس کے بارے میں SBP کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔26ویں آئینی ترمیم کے مطابق، تمام بینکوں کو یکم جنوری 2028 سے اسلامی بینکاری میں تبدیل ہونا ہوگا۔ بینک نے اس ضرورت کو سمجھتے ہوئے پہلے ہی اسلامی بینکاری ڈویژن قائم کیا، شریعت کمپلائنٹ پالیسیز تیار کیں، شریعت بورڈ تشکیل دیا، اور نئے Core Banking System کے تحت جلد اسلامی بینکاری کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ SBP سے شیڈیولڈ بینک کا لائسنس حاصل کرنا ہماری ترجیح ہے۔ Core Banking System کا مکمل نفاذ اور درج ذیل ڈیجیٹل سہولیات کا آغازکیا جائے گاجس میں انٹرنیٹ و موبائل بینکنگATM نیٹ ورک کی توسیع،دیہی علاقوں میں ای۔بینکنگ سروسز، مکمل اسلامی بینکاری مصنوعات کا اجراء، چھوٹے کاروبار، زراعت اور مائیکرو انٹرپرائزز کے لیے خصوصی فنانسنگ اسکیم شامل ہیں۔ کشمیری تارکین وطن کے لیے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہماری ترجیحات میں پہلے پاکستان میں BAJK ایکسچینج کمپنی کا آغاز، پھر برطانیہ

وزیرخزانہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر عبدالماجد خان نے اپنی بجٹ تقریر میں کہاکہ سرکاری ملازمین کسی بھی حکومت میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت اپنی مالی مشکلات کے باوجود ملازمین کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لئے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن میں کیا جانے والا اضافہ کے مطابق حکومت آزادکشمیر بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں اضافہ کا اعلان کرتی ہے۔

 

Comments are closed.