رسول بخش پلیجو: سندھ کا وہ نظریاتی مینار، جس کی چھاؤں آج بھی رہنمائی کرتی ہے
رسول بخش پلیجو: سندھ کا وہ نظریاتی مینار، جس کی چھاؤں آج بھی رہنمائی کرتی ہے
تحریر: اکرم قائمخانی
ہر سال 7 جون کا دن سندھ کے عوامی شعور، انقلابی سیاست، اور نظریاتی جدوجہد کی ایک بلند و بالا علامت، رسول بخش پلیجو کی برسی کے طور پر ہمارے ضمیر پر دستک دیتا ہے۔ یہ صرف ایک شخصیت کی یاد کا دن نہیں بلکہ اُس پورے فکری اور نظریاتی کُل کا استعارہ ہے جو قومی، طبقاتی، انسانی، اور تہذیبی سطح پر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ سیاست اگر اصولوں پر نہ ہو، تو وہ صرف اقتدار کا کھیل ہے
میری رسول بخش پلیجو صاحب سے شناسائی اُس وقت ہوئی جب میں خود شعور کی ابتدائی سیڑھیوں پر تھا۔ عمر کا وہ دور جہاں نظریات اور سیاست کی تفہیم ابھی دھندلکوں میں لپٹی ہوتی ہے۔ میں اُس وقت نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) کا رکن تھا۔ ایک سرگرم طالب علم، جو میراج محمد خان جیسے انقلابی رہنما کے سائے میں آگے بڑھ رہا تھا۔
حیدرآباد کا پہلا جھٹکا: نظریاتی الجھنیں اور شناخت کا بحران
یہ اُس زمانے کی بات ہے جب پیپلز پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے رسول بخش تالپور اور میراج محمد خان نے اپنی سوشلسٹ پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم چند طالب علم کراچی سے حیدرآباد گئے جہاں ایک جلسے میں سندھی نوجوان قوم پرستوں نے تقاریر کیں۔ ان تقاریر میں مہاجر کمیونٹی کے خلاف زہر گھولا گیا، یہاں تک کہا گیا کہ “انہیں دریا میں پھینک دیا جائے”۔ میں اور میرے دیگر ساتھی — اردو بولنے والے سندھی — یہ سب سن کر دہل گئے۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں پہلی بار سندھ کی سیاست، لسانیت، قومیت، اور طبقاتی جدوجہد ایک الجھی ہوئی گتھی کی صورت میں میرے سامنے آئی۔ ایک تاثر ابھرا کہ شاید سندھی قیادت اردو بولنے والوں سے نفرت کرتی ہے۔ لیکن شعور کے اگلے پڑاؤ نے ثابت کیا کہ یہ تاثر عارضی اور ناقص تھا — ایک سطحی فہم جو صرف جذباتی تقریروں پر مبنی تھا، اصل تصویر کچھ اور تھی۔
صحافیوں کی تحریک: جیل کا تجربہ، کسانوں کی دانش
1978ء میں جنرل ضیاء الحق کے خلاف جب صحافیوں کی تحریک چلی، تو فیصلہ ہوا کہ ہر روز ایک صحافی، ایک طالب علم، ایک مزدور اور ایک کسان گرفتاری دیں گے تاکہ تحریک کو طوالت دی جا سکے۔ میں دوسرا طالب علم تھا جس نے گرفتاری دی۔ جب جیل پہنچے تو وہاں دیہی سندھ سے آئے کسانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
ابتدا میں ہمارا تاثر یہی تھا کہ یہ لوگ شاید جاگیرداروں کے مزارعے ہیں، زبردستی لائے گئے ہوں گے۔ لیکن جب راتوں کو بیرک میں بیٹھ کر ہم مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے، تب ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ تو نظریاتی لحاظ سے ہم سے کہیں آگے ہیں۔ ان کا مارکسی شعور، ان کی عالمی سیاست پر گرفت، اور ان کی طبقاتی جدوجہد کی سمجھ — سب کچھ حیرت انگیز تھا۔
یہ لوگ سندھی عوامی تحریک کے کارکن تھے — وہی تحریک جسے رسول بخش پلیجوؒ نے گاؤں گاؤں، گوٹھ گوٹھ میں فکری بنیادوں پر کھڑا کیا تھا۔ پلیجو صاحب کے ورکروں میں صرف سیاسی جوش نہیں، بلکہ زبردست فکری گہرائی اور نظریاتی پختگی تھی۔ اس تجربے نے مجھے مجبور کیا کہ میں خود پلیجو صاحب کو جاننے اور سمجھنے کی جستجو کروں۔
جیل میں ملاقاتیں: ایک نظریاتی استاد کے سامنے بیٹھنے کا تجربہ
بعد میں کراچی کی جیل میں میری متعدد ملاقاتیں رسول بخش پلیجو سے ہوئیں۔ ان سے گفتگو کرنا ایک فکری درس گاہ میں بیٹھنے جیسا تھا۔ وہ جب بولتے، تو الفاظ نہیں بولتے تھے، فکر بولتی تھی۔ ان کے لہجے میں شدت تھی مگر نفرت نہیں۔ وہ قومیت کے سوال کو سماجی اور طبقاتی تناظر میں سمجھتے تھے۔
وہ کبھی سندھ کو ٹکڑے کرنے کی بات نہیں کرتے تھے، نہ ہی کسی قوم سے نفرت ان کے رویے میں دکھائی دیتی تھی۔ وہ ہر قوم، ہر زبان، ہر طبقے کو ایک وسیع تر انقلابی تحریک کا حصہ سمجھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ قوموں کے مسائل کو طبقاتی جدوجہد سے کاٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔
سندھی عوامی تحریک: خواتین، مزدور، کسان، طلبہ کا قافلہ
پلیجو صاحب کی تحریک میں صرف مرد کارکن ہی نہیں، عورتیں، بچے، بوڑھے، طلبہ، مزدور، کسان — سب شامل تھے۔ ان کی تنظیم کاری کی یہ خوبی تھی کہ وہ ہر فرد کو باوقار مقام دیتے، ہر مسئلے پر نظریاتی تربیت فراہم کرتے۔ ان کے ورکروں میں ایسی علمی توانائی تھی جس کا آج بھی مقابلہ کسی سیاسی جماعت میں نہیں۔
میں نے جیل میں ان کے ایک قریبی ساتھی — غالباً ان کے بیٹے پرویز — سے گہری دوستی کی۔ وہ ایک غیرمعمولی سیاسی ورکر تھا، جس کی فہم و فراست نے مجھے بار بار حیران کیا۔ پرویز جیسے نوجوان پلیجو صاحب کی تربیت کا زندہ ثبوت تھے۔
رسول بخش پلیجو کا نظریاتی میراث
رسول بخش پلیجو نے نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کی سیاست کو ایک نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ ان کی فکر کا مرکز “قوموں کا حق خود ارادیت”، “طبقاتی مساوات”، اور “عوامی شعور کی تربیت” تھا۔ وہ بائیں بازو کے اُس قافلے کے آخری بڑے رہنما تھے جنہوں نے اپنی تمام عمر عوام کے شعور کی آبیاری میں صرف کر دی۔
ان کے مخالفین ہوں یا حامی، ایک بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ پلیجو صاحب کی سیاست میں فکری گہرائی، اخلاقی بلندی، اور عوامی وابستگی ایک نادر امتزاج تھا۔
آج کی سیاست، پلیجو کی غیرموجودگی کا نوحہ
آج جب سیاست موقع پرستی، کرپشن، اور فکری بانجھ پن کی گود میں جا بیٹھی ہے، پلیجو صاحب کی غیرموجودگی ایک مسلسل ادھورے پن کا احساس دلاتی ہے۔ نہ وہ جیسا مطالعہ، نہ وہ جیسی تربیت، نہ وہ جیسا کردار۔
لیکن ان کا چھوڑا ہوا فکری ورثہ آج بھی ہمیں راہ دکھاتا ہے۔ ان کی تحریریں، تقاریر، اور کارکنوں کی تربیت — یہ سب ایک زندہ دستاویز ہے، جس سے ہم آج بھی سیکھ سکتے ہیں، اور شاید ہمیں سیکھنا ہی ہوگا، اگر ہم پاکستان کو ایک روشن، منصفانہ، اور ترقی پسند ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔
(مضموں نگار، اکرم قائم خانی ایک سینئر بائیں بازو کے سرگرم کارکن اور کراچی کے سابق طالبعلم رہنما ہیں، جو 1970 کی دہائی سے جمہوریت اور انصاف کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے قائم خانی نے قید و بند اور جلاوطنی کا سامنا کیا، مگر اپنے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اب وہ برطانیہ میں مقیم ہیں اور جنوبی ایشیائی فن، ثقافت اور مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ویسال (VSAAL) جیسے اقدامات کے ذریعے سرگرم ہیں۔)
Comments are closed.