پاکستان کی ترقی کیلئے پسماندہ خاندانوں کی بیٹیوں کو معیاری تعلیم دینا ناگزیر ہے: شاہد آفریدی
پاکستان کی ترقی کیلئے پسماندہ خاندانوں کی بیٹیوں کو معیاری تعلیم دینا ناگزیر ہے: شاہد آفریدی
پاکستان کے معاشی مسائل کا حل ہر بچے کو معیاری تعلیم دینا ہے: زاہد سعید، تمغہ امتیاز
کراچی: پاکستان کے مایہ ناز اسپورٹس اسٹار اور عالمی شہرت یافتہ سماجی رہنما شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے پسماندہ خاندانوں کی بیٹیوں کو معیاری تعلیم دینا ناگزیر ہے ۔
یہ بات انہوں نے شاہد آفریدی فاؤنڈیشن (ایس اے ایف) اور گرین کریسنٹ ٹرسٹ (جی سی ٹی) کے مشترکہ عشائیے کے موقع پر کہی جو ان دونوں فلاحی اداروں کی جانب سے 33,000 سے زائد پسماندہ، اسکول سے باہر بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی مہم کے آغاز کے لیے منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر معروف مخیر حضرات، کراچی کے صنعتکار و کاروباری برادری کے ارکان نے عشائیے میں شرکت کی اور اس اعلی فلاحی مقصد کیلئے اپنے بھرپور تعاون کا اعلان کیا۔
یہ عشائیہ پاکستان کے ممتاز صنعتکار اور مخیر شخصیت فرحان حنیف کی میزبانی و معاونت سے منعقد کیا گیا۔

شاہد آفریدی، جو ایس اے ایف کے چیئرمین بھی ہیں، نے زور دیا کہ مخیر حضرات اور کاروباری برادری آگے بڑھ کر غریب و پسماندہ پس منظر رکھنے والی بچیوں کی تعلیم کیلئے فلاحی کوششوں کا بھرپور ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیہی اور پسماندہ علاقوں کی بچیوں کو معیاری تعلیم سے محروم رکھا گیا تو پاکستان کی ترقی اُدھوری رہ جاۓ گی۔
انہوں نے کہا، “یہی بچیاں مستقبل کی مائیں ہیں، ان کی تعلیم پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنے گی، اور میں اس اہمیت کو اس لیے بہتر جانتا ہوں کیونکہ میں خود بیٹیوں کا باپ ہوں۔”
شاہد آفریدی نے بتایا کہ ایس اے ایف گزشتہ آٹھ برسوں سے جی سی ٹی کے ساتھ اشتراک میں کام کر رہا ہے تاکہ دور دراز اور محروم طبقات کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں 5 سے 16 سال کے 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں اور اس مسئلے کے حل کیلئے فلاحی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر خواندگی کی مہم چلانی ہونگی۔
انہوں نے این جی اوز اور فلاحی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں میں اپنے تعلیمی منصوبوں کا دائرہ وسیع کریں، جہاں سیکیورٹی خدشات اکثر ایسے فلاحی کاموں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کا شکریہ ادا کیا کہ جنھوں نے ایس اے ایف کو ان علاقوں میں کام کرنے کیلئے مکمل تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایس اے ایف جلد سندھ اور بلوچستان میں بے گھر افراد کیلئے رہائشی منصوبوں کو مزید وسعت دے گا، جہاں ان کے ادارے کی طرف سے اب تک 350 گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ ایس اے ایف عنقریب ان علاقوں میں موبائل ہیلتھ یونٹس بھی متعارف کروائے گا۔
انہوں نے مخیر حضرات اور کاروباری شخصیات
کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایس اے ایف اور جی سی ٹی کی مشترکہ تعلیمی مہم کیلئے غیر معمولی تعاون فراہم کیا۔
اس موقع پر گرین کریسنٹ ٹرسٹ کے سی ای او زاہد سعید (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا مستقل اور پائیدار حل صرف ہر بچے کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جی سی ٹی گزشتہ 31 برسوں سے اپنے قابل اعتماد پارٹنرز جیسے ایس اے ایف اور ملک بھر کے مخیر حضرات کی مدد سے سندھ کے پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے مشن پر مسلسل عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی سی ٹی اب تک 170 فلاحی اسکول قائم کر چکا ہے جن مستحق خاندانوں کے 32,800 مستحق بچے زیر تعلیم ہیں، اور ٹرسٹ کا ہدف ہے کہ 2030 تک اپنے اسکولوں کی تعداد 250 تک بڑھا کر کل 1 لاکھ اسکول سے باہر بچوں کو داخلہ دے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تین سال قبل جی سی ٹی نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ سندھ سے باہر بڑھاتے ہوئے بلوچستان کے علاقے وندر (ضلع حب) میں اپنا پہلا اسکول قائم کیا، اور اب بلوچستان و پنجاب کے دیگر پسماندہ علاقوں میں بھی ایسے ہی تعلیمی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
تقریب کے فنڈ ریزنگ سیشن کی میزبانی معروف ٹی وی میزبان اور کامیڈین شفاعت علی نے کی، جنہوں نے تقریب میں موجود صنعتکاروں اور تاجروں کی طرف سے بھرپور مالی تعاون کی فراہمی پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر جنید نقی اور معروف مخیر فرحان حنیف کا تقریب کے انعقاد کے لیئے خصوصی تعاون فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
ریٹائرڈ جنرل امجد خٹک، جو کہ جی سی ٹی کے مشیر ہیں، نے بھی زاہد سعید، شاہد آفریدی اور تمام
ڈونر حضرات کی تعلیمی میدان میں کوششوں کو سراہا۔
زاہد سعید نے دیگر نمایاں این جی اوز اور نامور شخصیات کو دعوت دی کہ وہ بھی ایس اے ایف کی طرح جی سی ٹی کے ساتھ مل کر کام کریں اور معیاری تعلیمی منصوبوں کے ذریعے پاکستان میں تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ جی سی ٹی اب اپنے تمام اسکولوں میں آئی ٹی، ٹیکنالوجی کی تربیت، ووکیشنل شارٹ کورسز کے انعقاد پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جی سی ٹی کی کئی جدید اسکولوں کی عمارتیں دور دراز علاقوں میں زیر تعمیر ہیں جو دسمبر 2025 میں مکمل کر لی جائیں گی۔
زاہد سعید نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ جی سی ٹی گزشتہ 30 سالوں سے بین الاقوامی و ملکی معروف آڈٹ فرموں سے آڈٹ شدہ ادارہ ہے جو حکومت پاکستان کے تمام ضروری این او سیز حاصل کر چکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جی سی ٹی کا کام شریعی اصولوں کے عین مطابق ہے ، جبکہ یہ ادارہ ٹیکس سے مستثنیٰ اور PCP سرٹیفائیڈ فلاحی ادارہ ہے، اور اس کے تمام عطیہ دہندگان کو جی سی ٹی کی تعلیمی سرگرمیوں پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔
Comments are closed.