
شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت پاکستان کیلئے اہمیت کی حامل ہے، ایس سی او علاقائی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا موثر پلیٹ فارم ہے، سینیٹر محمد اورنگزیب
اسلام آباد۔3جون (اے پی پی):وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت پاکستان کیلئے اہمیت کی حامل ہے، ایس سی او علاقائی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا مو ¿ثر پلیٹ فارم ہے، رکن ممالک کے مابین مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت بڑھانے کے پروگراموں کے مواقع بڑھانے کی تجویز خوش ا?ئند ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ ایس سی او رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کے اجلاس سے ورچوئل خطاب میں کہی۔ وزیر خزانہ نے اہم اجلاس کی میزبانی پر عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کی اجلاس میں بنفس نفیس شریک ہونے کی خواہش تھی تاہم پاکستان میں سالانہ بجٹ سیزن جاری ہونے کے باعث شرکت ممکن نہ ہو سکی۔ وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور تنظیم کو علاقائی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کا مو ¿ثر پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے ایس سی او کے منشور اور “شنگھائی سپرٹ” کے اصولوں کے تحت علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیر خزانہ نے خطے کی ترقی کے لئے نئے مواقع کی تلاش میں ایس سی او کی سرگرمیوں کو سراہا اور ایس سی او کے دائرہ کار میں معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لئے پاکستان کے عزم کو دہرایا۔ وزیر خزانہ نے تنظیم علاقائی استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے اور رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کو فروغ دینے میں ایس سی او کے کردار کی تعریف کی اور رکن ممالک کے مابین مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت بڑھانے کے پروگراموں کے مواقع بڑھانے کی تجویز کی بھی حمایت کی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے ڈیجیٹل معیشت اور مالی شمولیت کی اہمیت کا ذکر کیا اور پاکستان کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کو اجاگر کیا۔ وزیر خزانہ نے عالمی معیشت میں سست روی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے بڑے مسائل کے مشترکہ حل اور رکن ممالک کے لئے یکساں طور پر مفید ترقیاتی ماڈل اپنائے جانے پر زور دیا۔وزیر خزانہ نے معاشی ترقی اور علاقائی روابط بڑھانے میں انفراسٹرکچر کی ترقی کو اجاگر کیا اور خطے میں ٹرانسپورٹ، توانائی اور ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کی حمایت کی۔وزیر خزانہ نے ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کے منصوبے کی بھرپور حمایت کی اور اسے رکن ممالک کے درمیان ترقی اور معاشی تعاون کو فروغ دینے، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل کی فراہمی اور علاقائی روابط اور معاشی ہم آہنگی کے لئے اہم قرار دیا۔وزیر خزانہ نے بینک کے قیام کے تکنیکی پہلوو ¿ں کے حوالے سے پاکستان کے نقطہ نظر کا اجاگر کرتے امید ظاہر کی مجوزہ بنک جدت، ڈیجیٹل فنانس، فِن ٹیک سلوشنز اور ماحول دوست مالیاتی طریقوں کو اپنی بنیادی سرگرمیوں کا حصہ بنائے گا۔ وزیر خزانہ نے ایس سی او نیٹ ورک آف فنانشل تھنک ٹینکس کی فعالیت کی تجویز کا بھی خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ مالیاتی تعاون کے میدان میں تحقیق، تجزیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی جانب سے ایس سی او کے پلیٹ فارم تلے معاشی تعاون بڑھانے اور خطے میں معاشی خوشحالی، استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں تعاون اور باہمی مفاد کو سامنے رکھنے کا عزم دہرایا۔وزیر خزانہ نے پاکستان میں نمایاں معاشی استحکام کے حصول اور پائیدار اور جامع معاشی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھنے کے لئے مختلف شعبوں میں کی گئی اصلاحات بالخصوص مالی نظم و ضبط، اہم معاشی اشاریوں میں بہتری، کرنٹ اکاو ¿نٹ خسارے میں کمی، کرنسی کی قدر میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ بڑھنے کا بھی ذکر کیا۔اس سے قبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے وزیر خزانہ اور گورنر پیپلز بینک آف چائنا نے پاکستان کی معاشی ترقی کو سراہا اور ملک میں معاشی استحکام کے کامیاب حصول اور اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے حکومت پاکستان کو مبارکباد پیش کی۔




