
واشنگٹن( آن لائن )ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے والے زیادہ تر افراد ہلاک ہو جاتے پیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ ، چین اور یورپی ممالک کے تعلیمی اداروں کی جانب سے ریسرچ کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے والے زیادہ ترمریض ہلاک ہو گئے۔اور جو لوگ وینٹی لیٹر پر زندہ رہتے ہیں انہیں کافی دیر تک اس پر رکھنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وینٹی لیٹر سے اتارے گئے زیادہ تر مریض زندگی کی بازی ہار گئیاور بغیر وینٹی لیٹر کے زندہ نہ رہ سکے۔ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ایک ہسپتال میں وینٹی لیٹر کی مدد سے سانس لینے والے مریضوں میں سے صرف 33فیصد ہی زندہ بچ پائے باقی تمام ہلاک ہو گئے یا وینٹی لیٹر پر موجود رہے۔چین میں کی جانے والی ریسرچ کے مطابق وینٹی لیٹر پرموجود 22 میں سے صرف 3 افراد زندہ رہے باقی تمام افراد ہلاک ہو گئے ۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی اس ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے کے بعد کئی ہفتے مصنوعی سانس دینا پڑتا ہے ورنہ مریض ہلاک ہو جاتا ہے۔تاہم یہ بات بھی قابل غوررہے کو مریضوں کی بڑھتی تعداد کو وینٹی لیٹر فراہم کرنا بھی انتہائی مشکل ہے اور کسی ایک مریضوں کو ہفتوں تک وینٹی لیٹر پر بھی نہیں رکھا جا سکتا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وینٹی لیٹر بھی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی جان بچانے کیلئے موثر ثابت نہیں ہو رہا ،اس لئے ضروری ہے کہ لوگ سوشل ڈسٹنس پر عمل پیرا ہو کر کورونا وائرس سے بچے ابھی تک یہی واحد حل ہے جس سے کورونا وائرس کو شکست دی جا سکتی ہے۔


