کارپوریٹ فارمنگ اور دریائے سندھ پر نہروں کے خلاف عوامی تحریک کی احتجاجی مہم جاری

18

کارپوریٹ فارمنگ اور دریائے سندھ پر نہروں کے خلاف عوامی تحریک کی احتجاجی مہم جاری

سیرانی میں کارپوریٹ فارمنگ اور چھ نئی نہروں کے خلاف احتجاجی مارچ

پیپلز پارٹی جھوٹا ڈرامہ رچا رہی ہے، دریائے سندھ پر نہروں کی تلوار ابھی تک لٹک رہی ہے: ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی صدر عوامی تحریک

بھاشا ڈیم سندھ کے وجود پر حملہ ہے: وسند تھری

بدین/سیرانی (پریس ریلیز) کارپوریٹ فارمنگ، سندھ کی زمینوں اور وسائل پر قبضوں، اور دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کے خلاف عوامی تحریک کی جانب سے احتجاجی مظاہرے، مارچ، دھرنے اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان منصوبوں کے خلاف سیراني میں ایک زبردست احتجاجی مارچ کیا گیا، جس کی قیادت عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی نائب صدر ستار رند، علی محمد پرویز میمن، مہران درس، مختیار بکاری، ایڈووکیٹ کامران لاکھو، ایڈووکیٹ فاضل زئور، محمد علی ٹالپر، بہادر ٹالپر اور دیگر نے کی۔

 

اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق اور پنجاب کی حکومت ڈیڑھ صدی سے سندھ کے پانی پر ناجائز قبضے کا حساب دیں۔ 1859 سے سندھ کے پانی پر ناجائز قبضوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پیپلز پارٹی جھوٹے ڈرامے رچا رہی ہے۔ کارپوریٹ فارمنگ اور نہروں کے خلاف سندھ کی پرامن جدوجہد کو پرتشدد بنایا جا رہا ہے۔ ایک سازش کے تحت سندھ میں قانون کی حکمرانی کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے نام نہاد منتخب نمائندے 24 گھنٹے عوام سے جھوٹ، دھوکہ اور فراڈ کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنانے کے لیے سندھ کا سودا کر لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اقتدار کی خاطر سندھ کو بیچ دیا ہے۔

سندھ میں پانی کی شدید قلت کے باوجود پنجاب ٹی پی اور سی جی لنک کینال کے ذریعے زبردستی پانی چرا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تونسہ سے گڈو تک سندھ کا پانی چوری ہو رہا ہے۔ ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) کی طرف سے کسی قسم کا آڈٹ نہیں کیا جا رہا۔ ارسا میں سندھ کی بات سننے والا کوئی نہیں۔ سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا وفاق عملاً پنجاب نواز ہے۔

 

مرکزی میڈیا سیکریٹری عوامی تحریک

Comments are closed.