تفتان کے راستے پاکستان واپس آنے والے زائرین کی بارڈ پر اسکریننگ کی جارہی ہے ،جام کمال خان

کوئٹہ( این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اوروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مابین جمعہ کے روز یہاں ہونے والی ملاقات میں کرونا وائرس کی روک تھام، اس کے تدارک اور احتیاطی تدابیر کے لئے دونوں صوبوں کے درمیان معاونت اور معلومات کے تبادلے کے میکنزم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور خاص طور سے کرونا وائرس کے مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، صوبائی وزراء سردار عبدالرحمن کھیتران، میر عارف جان محمد حسنی، زمرک خان اچکزئی، عبدالخالق ہزارہ بھی اس موقع پر موجود تھے، دونوں وزراء اعلیٰ نے کرونا وائرس کو قومی مسئلہ قراردیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لئے مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کرونا وائرس کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر کے لئے اپنے اپنے صوبوں میں جاری اقدامات سے متعلق معلومات فراہم کیں، وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تفتان کے راستے پاکستان واپس آنے والے زائرین کی بارڈ پر اسکریننگ کی جارہی ہے اور انہیں پاکستان ہاؤس میں چودہ دن کے لئے قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے جہاں انہیں خوراک سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہے، کوئٹہ کے نواح میں آئسولیشن سینٹر قائم کئے جارہے ہیں جبکہ دوہسپتالوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پر تیار کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گذشتہ چند دنوں میں ایران اور چین سے سندھ واپس آنے والے 2300افراد کی نشاندہی ہوئی ہے اور ان افراد سے رابطہ کیا گیا ہے، واپس آنے والے افراد میں کھانسی بخار اور دیگر علامات کی صورت میں ان کے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں جبکہ کراچی کے ایک نوتعمیر شدہ 140بستروں کے ہسپتال کو آئسولیشن سینٹر میں تبدیل کیا گیا ہے،ملاقات میں ایران سے آنے والے سندھ کے زائرین کی ان کے علاقوں میں واپسی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ زائرین کی سندھ واپسی کے عمل میں دونوں صوبوں کے متعلقہ حکام کو آرڈینیشن کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ نے تفتان میں زائرین کی دیکھ بھال اور انہیں سہولتوں کی فراہمی کے لئے بلوچستان حکومت کے اقدامات کو سراہا۔


