
اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ نواز شریف کو باہر بھجوانے کا فیصلہ حکومت کا تھا ، اب حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے ، نوازشریف کو سنگین دل کا عارضہ لاحق ہے ، سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی ہے ،دوبارہ سرجری سے پہلے تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں، نوازشریف کی خواہش ہے سرجری سے پہلے بیٹی کا ہاتھ پکڑیں ،حکومت نے غیر قانونی طور پر برطانوی حکوم تکو خط لکھا ہے ،سارے اقدامات غیر قانونی ہیں، مہنگائی سے توجہ ہٹانے کیلئے شور مچایا جارہاہے ، عدالت میں اپیل دائر کرنے کے لئے مشاورت جاری ہے،اپوزیشن لیڈر جلد واپس آئیں گے ،چوہدری نثار کی نواز شریف سے ملاقات بارے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بدھ کو یہاں مریم اور نگزیب اور عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہاکہ موجود ہ حکومت نواز شریف کی بیمار ی سے متعلق مسلسل غلط بیانی سے کام لے رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نواز شریف کو اکتوبر میں ہسپتال میں منتقل کرنے کا فیصلہ حکومت کا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ نواز شریف کے بورڈ کا فیصلہ بھی حکومت نے کیا اور اس بورڈ نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کم ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نواز شریف کو ایک جیل میں ہارٹ اٹیک ہوا ،دوسرا ہاٹ اٹیک ہسپتال میں ہوا ۔ انہوںنے کہاکہ نواز شریف کے لیے ڈاکٹر بھی آغا خان ہسپتال سے بلوایا گیا۔ مصد ملک نے کہاکہ اسی بورڈ نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھجوانا ضروری ہے ،یہ فیصلہ حکومت کا تھا اور اب حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نواز شریف کو سنگین دل کا عارضہ لاحق ہے ،دل میں سات اسٹنٹ ہیں ایک خراب ہے ،نواز شریف کو سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی ہے ،لندن ،امریکہ کے ڈاکٹر ان کا معائنہ کر چکے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ دل کی نالی کے اندر کیمرہ لگا کر ڈاکٹر ز دیکھیں گے کہ کہاں کہاں خون کی سپلائی نہیں ہو رہی ۔ انہوںنے کہاکہ دوبارہ سرجری سے پہلے تمام انتظامات کیے جا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ نواز شریف کی دماغ کو خون سپلائی کرنے والے ایک شریان بند ہے ،گردے کا مرض ہے شوگر ہے ، پیٹ اسکین ہو چکا ہے،ان کی خواہش ہے کہ سرجری سے پہلے بیٹی کا ہاتھ پکڑیں ،اگر انصاف نہ ملا تو ہماری خواہش کہ سرجری کو مؤخر نہ کریں۔ انہوںنے کہاکہ رپورٹس ڈاکٹر ، نوٹری پبلک اور لندن میں فارن آفس سے تصدیق شدہ ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پھر پاکستانی ہائی کمیشن نے تصدیق کی لیکن حکومت کہتی رپورٹس جھوٹی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جس سے ملکی معیشت نہیں چلتی وہ اعتراض نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا ۔ انہوںنے کہاکہ کھانے کی اشیاء کی مہنگائی دیہاتوں میں اسی فیصد مہنگی ہو گئی ہیں ،یہ کہتے ہم نہیں مانتے بلکہ یہ چور ہیں ،ان سے ملک اور معیشت نہیں سنبھالی جا رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومتی ترجمان کہتی ہیں کہ رپورٹس نہیں دی گئیں ۔ انہوںنے کہاکہ رپورٹس لاہور ہائی کورٹس ، اسلام آباد ہائی کورٹس اور پنجاب حکومت کو جمع کرائی گئی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چار دسمبر اکیس دسمبر تیرہ جنوری بارہ فروری کو رپورٹس جمع کرائی ہیں۔ مصد ق ملک نے کہاکہ کس معاہدے کے تحت خط لکھا جا رہا ہے ،صرف شور ہے مہنگائی سے توجہ ہٹانا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ والی ضمانت ابھی تک چل رہی ہے ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر ضمانت دی ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت نے غیر قانونی طور پہ خط لکھا ہے سارے اقدامات غیر قانونی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اپیل دائر کرنے کے لئے مشاورت جاری ہے۔انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم ، وزیر صحت غلط بیانی پر استعفے دیں تو رپورٹ بارے ہم سے سوال پوچھا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ ڈاکٹرز کو معزول کیا جائے تو ہم سے پوچھا جائے ۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن لیڈر جلد واپس آئیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ سرجریز کی تاریخ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے ،وہ روزانہ ہمیں ہدایات دیتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ چوہدری نثار کی نواز شریف سے ملاقات بارے کوئی اطلاع نہیں ہے۔



