اہم خبریںپاکستان

ماضی میں بجلی خریداری کے معاہدوں پر ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے،وفاقی وزیر توانائی

 اسلام آباد(این این آئی) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہاہے کہ ماضی میں بجلی خریداری کے معاہدوں پر ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے،ملک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے قابل تجدید توانائی پر توجہ دی جا رہی ہے،تھر کوئلہ سے بجلی پیداوار بڑھائیں گے۔ پیر کو نیپرا میں ہفتہ توانائی کے سلسلے میں سیمینار وفاقی زیر عمر ایوب کی زیر صدارت ہوا جس میں چین کے سفیر یاؤ جنگ جرمن برنارڈ چیئرمین سی پیک لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اور چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین اجلاس میں شریک ہوئے ۔چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں نے 20 سال ابو ظہبی میں اپنی دھرتی ماں کی خدمت کا خواب دیکھا،چیئرمین نیپرا بننے کا فیصلہ آسان نہیں تھا ،میں نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے توانائی مسائل کو حل کرنے کیلئے نیپرا کو کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ نیپرا میرٹ شفاف اور کھلے انداز میں کام کرے گا۔ انہوںنے کہاکہ سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ہفتہ توانائی کا مقصد تمام شراکت داروں سے مسائل کے حل کیلئے سفارشات تیار کرنا ہیں۔چین کے سفیر یاؤ جنگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا توانائی کے شعبے میں تبدیلی آ رہی ہے،سی پیک میں توانائی کا شعبہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ توانائی پیداوار میں بہتری سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ انہوںنے کہاکہ چین کی حکومت توانائی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی ۔انہوںنے کہاکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں متبادل ذرائع توانائی اور پن بجلی کے شعبے میں تعاون کو بڑھایا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات میں نیپرا کا کلیدی کردار ہے،چین کرونا وائرس کے خلاف کامیابی سے مقابلہ کر رہا ہے،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس کو قابو کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ دونوں ممالک کے نجی شعبہ کو سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زیادہ اہم کردار ادا کرنا ہے۔وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہاکہ توانائی کا شعبہ حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے،ملک کی معاشی ترقی توانائی کے شعبے سے منسلک ہے۔ انہوںنے کہاکہ صارفین کو سستی بجلی کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ماضی میں بجلی خریداری کے معاہدوں پر ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ وقت میں 75 فیصد بجلی درآمدی فیول پر منحصر ہے،اس سے ملک کے درآمدی بل پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔انہوںنے کہاکہ ماضی کے بجلی خریداری معاہدوں کو دوبارہ دیکھا جا رہا ہے،قابل تجدید توانائی کا ٹیرف نیچے آ رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے قابل تجدید توانائی پر توجہ دی جا رہی ہے،تھر کوئلہ سے بجلی پیداوار بڑھائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں بجلی طلب کا سائنسی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے،نئے پاور پلانٹس وہاں لگائیں گے جہاں طلب ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ دنیا میں بجلی کی ضروریات کیلئے ارٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا جا رہا ہے،پاکستان کی بجلی کی مارکیٹ کو کھولا جا رہا ہے،بجلی کی پیداواری اداروں اور خریداروں کو بجلی کی فروخت اور خریداری کی اجازت ہو گی،اس کی اجازت نئی بجلی پالیسی کے اطلاق سے دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کی اکنامی کا حجم 300 ارب ڈالر نہیں بلکہ غیر دستاویز معیشت کو شامل کرنے سے 600 ارب ڈالر ہو جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملک کے شہروں میں وسعت آ رہی ہے ان کی ضروریات کیلئے مزید بجلی چاہیے۔چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سی پیک ایک حقیقت ہے،سی پیک پاکستان کی انفراسٹرکچر کی ضروریات پوری کرے گا،سی پیک کے پہلے مرحلے کے فوائد بہت زیادہ ہیں،پشاور سے کراچی کے درمیان بذریعہ سڑک سفر میں نمایاں کمی ہوئی،سی پیک کے تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ پن بجلی کے دو منصوبوں کے ذریعے بجلی کی قیمت میں کمی لائی جائے گی،تھر کوئلہ کو دیگر جگہوں پر استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں بڑے پیمانے پر صنعتیں لگائیں گے،دوسرے مرحلے میں زراعت کی ترقی کیلئے اہم منصوبے شروع ہوں گے،اس سال کے وسط سے سی پیک کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کا آغاز ہو گا۔چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سستی توانائی کی ضرورت ہے،ملکی سیکورٹی کیلئے معاشی استحکام اور غذائی خود کفالت اہم ہیں،آبی وسائل کی ترقی کیلئے اراضی کا حصول سب سے اہم ہے،پاکستان دنیا میں پانی کی دستیابی میں نیچے کے 15 ممالک میں شامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں پانی کی دستیابی 105 ملین ایکڑ فٹ ہے جس میں صرف 13 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے،پاکستان میں آبادی کا اضافہ بہت تیزی سے ہوا جس سے آبی وسائل پر منفی اثرات ہوا،پاکستان کو پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے نئے ڈیم چاہئیں ۔ انہوںنے کہاکہ دریائے سندھ پر کئی ڈیم بن سکتے ہیں مگر ہم صرف دو ڈیم ہی بنا سکے،واپڈا نے 1953 سے 1977 کے درمیان 33 منصوبوں کو بروقت مکمل کیا،اس کامیابی کی وجہ واپڈا کی مالی خود مختاری تھی۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں چار اہم منصوبوں کو مکمل کیا،واپڈا اس وقت مہمند داسو اور دیامیر بھاشا ڈیم کو مکمل کرنے کیلئے کوشش کر رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button