سپریم کورٹ نے کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کرنے والے ایس ایچ او عبدالرحمن کی ملازمت پر بحالی کی درخواست خارج کر دی
اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کرنے والے ایس ایچ او عبدالرحمن کی ملازمت پر بحالی کی درخواست خارج کر دی۔ پیر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دور ان سماعت عدالت نے کہاکہ پولیس انسپکٹر انکوائری کے دوارن اپنے اثاثے بتانے میں ناکام رہے، پولیس انسپکٹر نے ایک کروڈ 20 لاکھ کی پراپرٹی خریدی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے موکل کے پاس اتنے پیسے کہا سے آئے۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ انکوائری کے دوران ان پرپراٹی پر جراح نہیں ہوئی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ آپ جرح کو چھوڑیں، 12 لاکھ 80 ہزار کا حج کر کے آئے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ 16 گریڈ کا آفیسر 12 لاکھ کا حج کرسکتاہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آپ کی لاٹری نکلی تھی یا پرائز بانڈ۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ 30 ہزار ماہانہ تنخواہ لینے ولا اتنی پراپرٹی کہاں سے خرید سکتا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ میرے دو بھائی بیرون ملک ہیں، میرا موکل زمینوں کی خریدوں فروخت کرتا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ کیا آپ کی زمین سونا اگلتی تھی،آپ اپنی پراپرٹی کا سورس عدالت کو بتا دیں۔ وکیل درخواست گزار نے کہاکہ میں نے اپنی پراپرٹی ڈیکلیئر بھی کی اور ٹیکس بھی ادا کرتا رہا۔