ہندو قوم پرست کی ’’یہ لو آزادی‘‘ کہہ کر مظاہرین پر فائرنگ ،طالب علم زخمی

0 37

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک ہندو قوم پرست نے انٹرنیٹ پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلبہ پر فائرنگ کرکے ایک طالبعلم کو زخمی کردیا۔پولیس نے فائرنگ کرنے والے ہندو قوم پرست نوجوان کو گرفتار کرلیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ شخص نے نئی دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر متنازع قانون کے خلاف سراپا احتجاج طلبہ پر یہ کہہ کر فائرنگ کردی کہ یہ لو آزادی اور نئی دہلی پولیس زندہ باد۔وائرل ویڈیو اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح شخص مجمع پر پستول تانے ہوئے ہے اور پس منظر میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔کانگریس پارٹی کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ جامعہ ملیہ کے باہر طلبہ پر فائرنگ کا واقعہ نفرت کا شاخسانہ ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمران جماعت یہ ہی چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نفرت کی آگ گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل بڑھ رہی ہے۔علاوہ ازیں بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زخمی طالبعلم شاداب فاروق سے ہسپتال میں ملاقات کی۔دوسری جانب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جامعہ ملیہ کے باہر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کی ذمہ داری سی پی دہلی پولیس کے سپرد کردی۔پولیس نے ڈاکٹروں کا حوالہ دے کر بتایا کہ شاداب فاروق کی حالت خطرے سے باہر ہے۔انہوں نے بتایا کہ واقعہ چند سیکنڈ میں پیش آیا لیکن پھر ملزم کو فوراً قابو میں کرلیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ کیس کرائم برانچ کو منتقل کردیا گیا۔اسی دوران فیس بک کمپنی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے رام بھکت گوپال کا اکاؤنٹ منسوخ کردیا۔جوائنٹ کمشنر آف پولیس دیویش شریواستو نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا و طالبات راج گھاٹ (مقتول مہاتما گاندھی کی آخری آرام گاہ) پر سی اے اے کے خلاف احتجاج کی اجازت چاہتے تھے اور پولیس انہیں روک رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے نوجوان کے خلاف انڈین پینل کوڈ اور اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 307 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ نئی دہلی میں پرتشدد ہنگامے کی خواہش مند ہے۔اے اے پی نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق فائرنگ کرنے والا لڑکا نابالغ ہے اور اس کی تعلیمی اسناد میں تاریخ پیدائش 8 اپریل 2002 درج ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.