سپریم کورٹ کا غیر قانونی ری فنڈ کیس میں عبدالحمید انجم کے خلاف دوبارہ انکوائری کا حکم ، معاملہ نمٹا دیا

0 30

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر قانونی ری فنڈ کیس میں عبدالحمید انجم کے خلاف دوبارہ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ایف بی آر 3 ماہ میں ڈپٹی کمشنر سیل ٹیکس عبدالحمید انجم کے خلاف انکوائری مکمل کرے جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے ایف بی آر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاہے کہ آپ ہمارے سامنے کوئی سچی بات نہیں کر رہے،ایف بی آر کی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی،ہمارے ساتھ کھیل نہ کھلیں ہمیں پتہ ہے آپ یہی پرانی انکوائری دوبارہ پیش کر دیں گے،اگر ایف بی آر کا آفیسر کوئی گڑ بڑ کرتا ہے تو کیا آپ اسے پکڑ نہیں سکتے۔ بدھ کو غیر قانونی ٹیکس ریفنڈ کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ دور ان سماعت چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی عدالت میں پیش ہوئے ۔ ایف بی آر نے ریفنڈ کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کب یہ انکوائری مکمل ہوگی۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ ہم نے رپورٹ جمع کر دی ہے۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ رپورٹ میں اشفاق دینو کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ 874.7 ملین روپے جو سرکار کے چلے گئے ہیں اس کی ریکوری کیلئے آپ نے کیا کہا ہے، آپ یہ رقم کیسے واپس لیں گے؟۔ چیئر ایف بی آر شبرزیدی نے کہاکہ ایف بی آر اپنے طور پر ریکوری کر رہی ہے، ریکارڈ کے بغیر آپ نے انکوائری کیسے کی؟۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سانپ گزر گیا اب اس کی لکیر پر لاٹھی مار رہے ہیں ۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ آپ کر کیا رہے ہیں سمجھ نہیں آرہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ہم نے اپیل مسترد کر دی تو پھر کیا ہوگا؟ڈپٹی کمشنر کے اوپر کون تھے۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ ایڈیشنل کمشنر تھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا منظوری ایڈیشنل کمشنر نے دی۔ وکیل ا یف بی آر نے کہاکہ ایڈیشنل کمشنر نے ریفنڈ کی منظوری نہیں دی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اس کا مطلب ہے ایڈیشنل کمشنر کا کوئی کردار نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ گورنر بورڈ نے انکوائری سے اتفاق کیوں نہیں کیا، وہ دستاویزات کہاں ہیں جس کے زریعے منظوری ہوئی۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ دستاویزات اس وقت ہمارے پاس موجود نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اس کا مطلب ہے وہ ایڈیشنل کمشنر نہیں ڈپٹی کمشنر نے منظوری دی ہے۔ دور ان سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ شبیر زیدی صاحب آپ سیٹ پر بیٹھ جائیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اگر ڈپٹی کمشنر مجاز تھے تو ایڈیشنل کمشنر درمیان میں کہاں سے آگئے۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ ایک ملین سے زیادہکی رقم ہو تو ایڈیشنل کمشنر منظور کرتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ قواعد کے مطابق اصل مجاز آفیسر کون ہے۔ وکیل ایف بی آر نے کہاکہ آفیسر انچارچ مجاز آفیسر ہوتا ہے اور یہ اسسٹنٹ کمشنر ہوتا ہے۔ وکیل ایف بی آر نے رپورٹ عدالت میں پڑھ کر سنایا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اس رپورٹ میں تو ایڈشنل کمشنر کا ذکر ہی نہیں ۔ سپریم کورٹ نے غیر قانونی ری فنڈ کیس میں عبدالحمید انجم کے خلاف دوبارہ انکوائری کا حکم دیدیا۔ عدازلت نے کہاکہ ایف بی آر 3 ماہ میں ڈپٹی کمشنر سیل ٹیکس عبدالحمید انجم کے خلاف انکوائری مکمل کرے۔عدالت نے ایڈیشنل کمشنر سیل ٹیکس ڈاکٹر اشفاق اور ڈپٹی کمشنر سیل ٹیکس عبدالحمید انجم کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کہاکہ ایف بی آرایک ہی جرم میں ایک آفیسر کو کلیئر اور ایک کو سزا کیسے دے سکتی ہے۔چیف جسٹس نے ایف بی آر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ آپ ہمارے سامنے کوئی سچی بات نہیں کر رہے،ایف بی آر کی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہمارے ساتھ کھیل نہ کھلیں ہمیں پتہ ہے آپ یہی پرانی انکوائری دوبارہ پیش کر دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ایف بی آر کا آفیسر کوئی گڑ بڑ کرتا ہے تو کیا آپ اسے پکڑ نہیں سکتے۔عدالت نے ایف بی آر کو دوبارہ 3 ماہ کے اند تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.