سپریم کرٹ کا جنگلات کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم

0 28

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کرٹ نے جنگلات کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ جنگلات کی زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے واپس کی جائے، محکمہ جنگلات عدالتی حکم پر عملدرآمد کرکے رپورٹ دے۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے سپریم کورٹ میں جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ عدالت نے جنگلات کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے کہاکہ جنگلات کی زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے واپس کی جائے، محکمہ جنگلات عدالتی حکم پر عملدرآمد کرکے رپورٹ دے۔ عدالت نے جنگلات کی زمین کی سیٹلائٹ رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو طلب کرنے کا عندیہ دے دیا۔عدالت نے کہاکہ جنگلات کی زمین پر قبضہ واپس لیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیوں نہ وزیر اعلیٰ سندھ کو بلالیں، سندھ کی محکمہ جنگلات کی ساری زمین پر قبضے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سکھر میں وزرا اور ایم پی ایز نے سرکاری زمین پر قبضے کررکھا ہے، بحریہ ٹاؤن کا بھی محکمہ جنگلات کی زمین پر قبضہ ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ نوابشاہ میں بھی تو کہیں بحریہ ٹاؤن نہیں بن رہا، 3134 ایکڑ پر بحریہ ٹاؤن بن چکا ہے، کیا بحریہ ٹاؤن بھی قبضے کی زمین پر بنا ہوا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ٹی وی پر تسلیم کررہے ہیں کہ میں سرکاری زمین فروخت کررہا ہوں، سندھ حکومت نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں، 5000 ایکڑ رقبہ سندھ میں محکمہ جنگلات کا ہے۔چیف جسٹس نے محکمہ جنگلات سندھ کے حکام سے مکالمہ کیا کہ کیا آپ بحریہ ٹاؤن کے نمائندے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ نہیں میں محکمہ جنگلات کا نمائندہ ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وکالت تو بحریہ ٹاؤن کی کررہے ہیں، جنگلات کی زمین پر غیر قانونی قبضے میں محکمے کے لوگ بھی ملوث ہیں۔ بعد ازاں سماعت دو ماہ کے لیے ملتوی کر دی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.