آتشزدگی کے واقعے پر تو وزیر ریلوے کو مستعفی ہوجانا چاہیے تھا، چیف جسٹس

0 25

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے خسارہ کیس میں وزیرریلوے شیخ رشید احمد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ آتشزدگی کے واقعہ پر تو آپ کو مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔ منگل کو عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی، اس دوران عدالت کے طلب کرنے پر وزیر ریلوے شیخ رشید احمد خود پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس اور شیخ رشید میں مکالمہ بھی ہوا ، عدالت عظمیٰ نے وزیر ریلوے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ جی وزیر صاحب بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں، آپ کا سارا کچا چٹھا ہمارے سامنے ہے، آپ کی انتظامیہ سے ریلوے نہیں چلے گی۔اسی دوران چیف جسٹس نے سانحہ تیزگام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی سے واقعے سے متعلق آپ بتائیں، 70 لوگ جلنے سے مرگئے، اس پر تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا جس پر شیخ رشید نے جواب دیا کہ ہم نے 19 لوگوں کو برطرف کیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ روز بتایا گیا کہ 2 لوگوں کو فارغ کیا گیا، آپ نے چھوٹے ملازمین کو فارغ کردیا،بڑے کب آئیں گے۔اس پر وزیر ریلوے نے کہا کہ بڑوں کو بھی نکالیں گے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ نظر تو نہیں آرہا، سب سے بڑے تو آپ ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزیر صاحب لوگوں کو خواب نہ دکھائیں، آپ آج بھی اٹھارویں صدی کی ریلوے چلا رہے ہیں، ریلوے کے محکمے میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے، اس پر شیخ رشید نے کہا کہ میں 18 گھنٹے کام کرتا ہوں، میں نے 70 لاکھ مسافربڑھائے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2020 میں بھی آپ کا سارا نظام پرچیوں پر چل رہا ہے، جس پر شیخ رشید نے کہا کہ سب کچھ بائیو میٹرک کرنے جارہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے وفاقی وزیرریلوے کو 2 ہفتوں میں بزنس پلان دینے کی ہدایت کردی، ساتھ ہی کہا کہ عدالت میں پیش کردہ پلان سے انحراف ہوا تو کارروائی کریں گے۔علاوہ ازیں عدالت نے آئندہ سماعت پر وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور سیکریٹری پلاننگ کو بھی طلب کرلیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریلوے کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنائیں،ساتھ ہی حکم دیا کہ سرکلر ریلوے کراچی کا 6کلو میٹر کا حصہ 2 ہفتوں میں مکمل کریں جبکہ سندھ حکومت ریلوے سے متعلق معاملات میں معاونت کرے جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کری گئی۔خیال رہے کہ اپریل 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان ریلوے میں 60 ارب روپے خسارے پر ازخود نوٹس لیا تھا، جس وقت یہ نوٹس لیا گیا تھا اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور خواجہ سعد رفیق وزیر ریلوے تھے۔عدالت عظمیٰ کے ازخود نوٹس لینے کے 7روز بعد اس وقت کے وزیر خواجہ سعد رفیق نے پاکستان ریلوے میں ہونے والے خسارے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی تھی جبکہ چیف جسٹس نے مذکورہ معاملے پر آڈٹ کا حکم دے دیا تھا۔علاوہ ازیں سماعت کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو قوم کی پریشانی کا احساس ہے اور ہم عدالت کے مشکور ہیں اور چیف جسٹس کی ہدایت کے مطابق ریلوے کو آگے لیکر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ریلوے میں کچھ مقامات پر جو حکم امتناع ہیں ان کے ختم ہونے کی بھی گزارش کی ہیں اور چیف جسٹس نے جو ہدایات کی ہیں انہیں پورا کریں گے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ عدالت میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ ان کے دور کی نہیں ہے بلکہ یہ 2013 سے 2017 تک کی ہے، ہماری آڈٹ رپورٹ جب آئے گی تب ہم جوابدہ ہے، لہٰذا اس آڈٹ رپورٹ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر چیف جسٹس کہیں تو میں ابھی استعفیٰ دے دیتا ہوں۔حکومت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت 5 سال مکمل کرے گی، جب عمران خان کے جانے کی بات کریں گے تو میں جواب دوں گا اور جتنا وقت عمران خان رہیں گے عثمان بزدار بھی اتنا ہی وقت رہیں گے۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہاکہ عدالت نے ریلوے کے معاملات کو بہتر کرنے کیلئے دو ہفتوں کا وقت دیا ہے،انشاء اللہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرینگے ۔ انہوںنے کہاکہ آڈٹ رپورٹ 2013 سے 2017 کے وقت کی ہے جو ہمارا دور حکومت نہیں ہے،جب تک عمران خان ہے بزدار رہے گا۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ دور حکو مت کی آڈٹ رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی،آدٹ رپورٹ 2013 سے 2017 کی ہے،عدالت کے سا منے اپنے گزارشات پیش کروں گا ۔ انہوںنے کہاکہ اگر ایک ووٹ سے حکومت بن یا گر سکتی ہے تو پھر میں کمال کا آدمی ہوں،عدا لت خود سمجھدار ہے ،آرمی چیف کے معاملے پر کہا تھا کہ سب جماعتیں ووٹ دیں گی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.