ٹیوب ویلوں کو بجلی کے کنکشن کے ٹیرف اے تھری پر مارچ یا اپریل نظرثانی کی جائیگی، عمرایوب

0 32

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی کو بتایاگیا ہے کہ ٹیوب ویلوں کو بجلی کے کنکشن کے ٹیرف اے تھری پر مارچ یا اپریل نظرثانی کی جائیگی، اسلام آباد کی نواحی حدود میں اس حوالے سے ٹیرف پر نظرثانی کی جارہی ہے جس سے صارفین کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں علی نواز اعوان کے اسلام آباد کی علاقائی حدود میں اجتماعی بہم رسانی کی سکیموں کے ٹیوب ویلوں کے بجلی کے کنکشن ڈی ون ٹیرف اے تھری ٹیرف جیسی زیادہ شرح پر دیئے جانے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ یہ درست بات ہے کہ اے تھری ٹیرف نیپرا نے متعارف کرایا تھا۔ ہم نے نیپرا سے بات کی ہے۔ اس پر اپریل مارچ تک نظرثانی کردی جائے گی۔ وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ اسلام آباد کی نواحی حدود میں اس حوالے سے ٹیرف پر نظرثانی کی جارہی ہے جس سے صارفین کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر توانائی نے کہا کہ ٹیوب ویلوں کی بندش کے حوالے سے آئی سی ٹی کے ساتھ بیٹھ کر معاملے کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔مولانا عبدالاکبر چترالی کے چترال میں بروز اور آیون کی یونین کونسلوں اور کیسو ارنس عشریت اور ارندو کے موضعات کے لئے فنڈز واگزار ہونے کے باوجود بجلی کی ترسیلی تاریں لگانے میں تاخیر سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ چترال میں گرڈ سٹیشنوں کی اپ گریڈیشن اور اس کے مضافات میں ڈیڑھ کروڑ اور 30 کروڑ روپے کی منظوری دی جاچکی ہے وہاں پر جلد کام کا آغاز ہو جائے گا۔ توجہ مبذول نوٹس پر مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ بروز کا علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ جلد از جلد اس علاقے میں کام شروع کیا جائے۔ وزیر توانائی عمر ایوب خان نے کہا کہ ہمارے فنڈز تیار ہیں جیسے ہی وزارت خزانہ کی طرف سے کلیئرنس آتی ہے جلد کام کا آغاز کردیا جائے گا۔ شاہدہ اختر علی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چترال وسیع اور پھیلا ہوا علاقہ ہے اور یہاں دور دور تک دیہات واقع ہیں۔ چترال میں 500 سے لے کر 750 کلو واٹ کے چھوٹے چھوٹے یونٹ بھی لوگوں نے قائم کئے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی ہمارے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپر چترال کے علاقوں کو بجلی کی فراہمی کے لئے تاجکستان کے 132کے وی لائن لانے کے لئے بھی کام کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے افغانستان کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔ منصوبے کے تحت واخان کے راستے تاجکستان سے بجلی لائی جائے گی۔ یہ بجلی اپرچترال کے دیہات کو فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے بتایا کہ ایک لاکھ 24 ہزار 587 لوگوں نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں 78958 افراد مستفید ہوئے۔ جن لوگوں نے اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا اس کے خلاف کارروائی کرنا ایف بی آر کا کام ہے۔ نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 2018ء کی سکیم میں 76 ہزار افراد سے123 ارب روپے ریکور ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں ایک لاکھ 24 ہزار افراد سے 62 ارب روپے کی ریکوری ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں تین ایمنسٹی سکیمیں آئیں۔ ان سے 76 ہزار سے زائد لوگ مستفید ہوئے۔ ہمارے دور میں ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد اس سکیم سے مستفید ہوئے۔ علی محمد خان نے بتایا کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع تقسیمی پول ٹیکسز سے اپنا حصہ حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ نئے این ایف سی ایوارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ این ایف سی ایوارڈ اب بھی زیر غور ہے اور خیبرپختونخوا میں سابقہ فاٹا کے بعد اس کی ترقی کا معاملہ ا بھی نویں این ایف سی ایوارڈ کے ایجنڈے پر ہے تاہم وفاقی حکومت سابقہ فاٹا کے تمام ضم شدہ اضلاع کی تمام مالی ضروریات نئے این ایف سی ایوارڈ کے اعلان تک اپنے وسائل سے پوری کر رہی ہے۔ 2019-20ء کے لئے وفاقی حکومت نے سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لئے 152 ارب 35 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ علی محمد خان نے کہا کہ سودی نظام سے جب تک ہم نہیں نکلیں گے ہم خوشحالی نہیں دیکھ سکتے۔ مدینہ کی ریاست بنانے کے لئے ہمیں سود کے نظام سے نکلنا ہوگا۔ 72 سالوں میں اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔ فاٹا کے اضلاع کے عوام کو بلا سود قرضہ جات کی فراہمی سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے تاہم ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک لاکھ سے پانچ لاکھ تک کے رعایتی قرضہ جات فراہم کئے جانے کے پروگرام میں ان علاقوں کے لوگ بھی اس سے مستفید ہو سکیں گے۔ شیخ روحیل اصغر کے سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ نومبر 2019ء میں وزیراعظم نے اپنے دورہ ضلع میانوالی کے دوران کسی ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری تجارت عالیہ حمزہ نے بتایا کہ ہماری برآمدات میں 4.6 فیصد اضافہ اور درآمدات میں 17 فیصد کمی ہوئی۔ تجارتی توازن 30 فیصد کم ہوا ہے۔ چین کو چاول اور چینی کی برآمدات میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ایوان کو بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2017-18ء کے مقابلہ میں مالی سال 2018-19ء کے دوران کل برآمدات میں ایک فیصد کی معمولی کمی آئی جبکہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ملکی برآمدات میں 4.79 فیصد اضافہ ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری تجارت عالیہ حمزہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لئے 27 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد صرف کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹھٹہ اور بدین کے اضلاع میں 96 ملین مختص کرنے کے لئے کہا ہے۔ 15 ملین اس وقت بھی موجود ہے۔ مشینری کی تنصیب 50 فیصد تک مکمل ہو چکی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.